دین اسلام

دین اسلام Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from دین اسلام, Event, Peshawar.

12/11/2025

اللہ دے جنتونا نصیب کہ

13/08/2025
07/08/2025

جب سائنس قرآن کی تفسیر کرنے لگے
ایک ویڈیو نظر کے سامنے سے گزری، جس میں ڈاکٹر یہ بات کر رہے تھے
کہ انسان کے جسم کے اندر سب سے زیادہ جینیاتی مشابہت رکھنے والا جانور دراصل خنزیر ہے

میں نے ویڈیو کو نظرانداز کر دیا
لیکن وہ بات ذہن کے اندر کہیں بیٹھ گئی

دو دن بعد جب میں قرآن کی تلاوت کر رہا تھا
تو سورۃ المائدہ کی ایک آیت پر دل ٹھہر گیا

قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّۭ مِّن ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِندَ ٱللَّهِ ۚ مَن لَّعَنَهُ ٱللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ ٱلْقِرَدَةَ وَٱلْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ ٱلطَّاغُوتَ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ شَرٌّۭ مَّكَانًۭا وَأَضَلُّ عَن سَوَآءِ ٱلسَّبِيلِ
سورۃ المائدہ آیت ٦٠

ترجمہ
کہہ دیجئے کیا میں تمہیں اُن لوگوں سے بھی بدتر انجام کے بارے میں بتاؤں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر وہ ناراض ہوا اور اُن میں سے بعض کو بندر اور خنزیر بنا دیا اور جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی یہ لوگ بدترین مقام والے اور راہِ راست سے سب سے زیادہ بھٹکنے والے ہیں

میں صرف عذاب کے تصور پر نہیں رکا
بلکہ سوچ میں پڑ گیا کہ اللہ تعالیٰ نے بندر اور خنزیر کا ذکر ہی کیوں چُنا

سائنس ہمیں بتاتی ہے
کہ انسانی جسم جن جانوروں کو سب سے بہتر قبول کرتا ہے
ان میں سب سے نمایاں خنزیر ہے
اس کے دل کا صمام ہو
گردہ ہو
یا جلد
انسانی جسم اسے آسانی سے قبول کر لیتا ہے اور رد نہیں کرتا

تحقیق یہاں تک کہتی ہے
کہ خنزیر کے گوشت کے بافتی ریشے انسان کے گوشت کے سب سے زیادہ مشابہ ہیں
اور بعض سنگدل مجرموں نے جنہوں نے آدم خوری جیسے گناہ کیے
یہ گواہی دی کہ انسانی گوشت کا ذائقہ خنزیر کے گوشت سے بہت ملتا جلتا ہے
العیاذ باللّٰہ

اب سوال یہ ہے
کہ جب اللہ نے کسی قوم پر عذاب نازل فرمایا
تو انہیں بندر اور خنزیر ہی کیوں بنایا گیا

سورۃ الأعراف میں اس کی مزید وضاحت آتی ہے
جہاں اصحاب السبت کے گناہ پر فرمایا گیا

فَلَمَّا عَتَوْا۟ عَن مَّا نُهُوا۟ عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُونُوا۟ قِرَدَةً خَـٰسِـِٔينَ
سورۃ الأعراف آیت ١٦٦

ترجمہ
پھر جب وہ ان باتوں سے باز نہ آئے جن سے انہیں روکا گیا تھا تو ہم نے ان سے کہا کہ ہو جاؤ ذلیل بندر

جب ہم جدید حیاتیاتی تحقیق پر نگاہ ڈالتے ہیں
تو معلوم ہوتا ہے کہ چمپانزی کا ڈی این اے انسان سے اٹھانوے اعشاریہ پانچ فیصد مشابہت رکھتا ہے

یعنی یہ مشابہت صرف شکل میں نہیں بلکہ مکمل جینیاتی سطح پر موجود ہے
سائنس اسے ارتقاء کہتی ہے
لیکن قرآن اسے مسخ قرار دیتا ہے

تو کیا مسخ صرف چہرے اور جسم کی شکل کا ہوا تھا
یا اندرونی ساخت بھی بدل دی گئی تھی
کیا یہی وجہ ہے کہ آج بندر اور خنزیر ہمارے جسمانی نظام سے اتنی مماثلت رکھتے ہیں

پھر ایک اور آیت پر دل رکا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحْمَ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ ۖ فَمَنِ ٱضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍۢ وَلَا عَادٍۢ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ
سورۃ البقرۃ آیت ١٧٣

ترجمہ
اللہ نے تم پر صرف مردار خون خنزیر کا گوشت اور وہ چیزیں حرام کی ہیں جن پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو پھر جو شخص مجبور ہو جائے اور نہ بغاوت کرنے والا ہو نہ حد سے بڑھنے والا ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں بے شک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے

یہاں غور سے دیکھنے پر سمجھ آتا ہے
کہ اللہ نے خنزیر کے گوشت کو کیوں حرام کہا؟
کیا وہ قومیں جنہیں اللہ نے مسخ کیا
ان کی خِلقت اس حد تک تبدیل ہو گئی
کہ آج ہم انہی کے جینیاتی نظام کو اپنی بیماریوں کے علاج میں استعمال کر رہے ہیں

ایسا لگتا ہے جیسے جیسے سائنس آگے بڑھ رہی ہے
ویسے ویسے قرآن کے الفاظ اور زیادہ کھل کر سامنے آ رہے ہیں

سَنُرِيهِمْ ءَايَـٰتِنَا فِى ٱلْءَافَاقِ وَفِىٓ أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ ٱلْحَقُّ ۗ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدٌ
سورۃ فصلت آیت ٥٣

ترجمہ
ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے دنیا کے کناروں میں بھی اور ان کے اپنے نفسوں میں بھی یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ یہ قرآن ہی حق ہے اور کیا تیرے رب کا یہ جاننا کافی نہیں کہ وہ ہر چیز پر گواہ ہے

ہم سچائی سے منہ موڑ سکتے ہیں
مگر اللہ کی نشانیاں ہم سے منہ نہیں موڑتیں
اور شاید آنے والا وقت ان آیات کو اور زیادہ عیاں کر دے گا

05/08/2025

اردو ميں جسے ہم “بيوی ” بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں
1- إمراءة
2- زوجة
3- صاحبة

إمراءة :
امراءة سے مراد ايسی بيوی جس سے جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہو
زوجة :
ايسی بيوی جس سے ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں يعنی ذهنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہو
صاحبة :
ايسی بيوی جس سے نه جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہو
اب ذرا قرآن مجيد كی آيات پر غور كيجئے :

1- امراءة
حضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں ان كو
" امراءة نوح " اور " امراءة لوط " كہہ كر پكارا هے،

اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هو گئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی
" وامراءة فرعون" کہ كر پكارا هے

(ملاحظه كريں سورة التحريم كے آخری آيات ميں)

یہاں پر جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذهنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا

2- زوجة :
جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے

( ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ )

اور نبی صلی اللّٰہ عليه و سلم كے بارے فرمايا

( يأيها النبي قل لأزواجك .... )

شايد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا

ایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا
( و امراتي عاقرا .... )

اور جب أولاد مل گئی تو بولا

( ووهبنا له يحی و أصلحنا له زوجه .... )

اس نكته كو اهل عقل سمجھ سكتے هيں

اسی طرح ابولهب كو رسوا كيا يہ بول کر

( وامرءته حمالة الحطب )

كہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا

3- صاحبة :
جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہو

اللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ "صاحبة" بولا اس لئے كه یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے

(ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ)

اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہو گا تو فرمايا

( ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ )

كيونکہ وہاں صرف اپنی فكر لگی ہو گی اس لئے "صاحبته" بولا

اردو ميں:
امراءتي , زوجتي , صاحبتي سب كا ترجمة " بيوی" ہی كرنا پڑے گا

ليكن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت پنہاں ہے

اور رب تعالى نے جب دعا سکھائی تو ان الفاظ ميں فرمايا

‎( رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ
أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما )

"وأزواجنا"

زوجہ سے استعمال فرمايا اس لئے كه آنكھوں کی ٹھنڈک تبھی ہو سکتی ہے جب جسمانی كے ساتھ ذہنی بھی ھم آہنگی ھو
تحریر پڑھنے کے بعد شیئر ضرور کیجۓ

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when دین اسلام posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to دین اسلام:

Share

Category