22/05/2026
**🚨 عمران خان کے ایک فیصلے نے جب ڈریسنگ روم میں آگ لگا دی!**
دوستو! سال تھا 1983، حیدرآباد کا میدان، اور سامنے تھا روایتی حریف بھارت۔ پاکستان کے عظیم بلے باز جاوید میانداد پچ پر بھارتی بولرز کی دھلائی کرتے ہوئے **280 رنز** بنا چکے تھے اور کریز پر موجود تھے۔ وہ اپنی زندگی کی پہلی ٹرپل سنچری بنانے اور سر ڈونلڈ بریڈمین کے 334 رنز کے ورلڈ ریکارڈ کی طرف مضبوطی سے بڑھ رہے تھے۔
**اور پھر وہ ہوا جس کا کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا! 💥**
کپتان عمران خان نے جاوید میانداد سے پوچھے بغیر اچانک اننگز ڈیکلیئر کرنے کا اشارہ کر دیا۔ جاوید میانداد حیران و پریشان میدان سے واپس لوٹے، وہ صرف 20 رنز دور تھے ایک ایسے تاریخی ریکارڈ سے جو ان کے کیریئر کا سب سے بڑا سنگِ میل بن سکتا تھا۔
**ڈریسنگ روم کا ماحول گرم ہو گیا! 😡**
کہا جاتا ہے کہ جاوید میانداد اس فیصلے پر عمران خان سے شدید ناراض ہوئے اور ڈریسنگ روم میں دونوں کے درمیان تلخی بھی ہوئی۔ جاوید میانداد نے بعد میں اپنی کتاب میں بھی لکھا کہ اگر خان صاحب مجھ سے پوچھ لیتے تو میں ایک دو اوورز میں ٹرپل سنچری مکمل کر لیتا۔ دوسری طرف عمران خان کا موقف تھا کہ وہ میچ جیتنے کے لیے وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے اور ٹیم کا مفاد ان کے لیے پہلے تھا۔
کیا عمران خان کا یہ فیصلہ ٹیم کے حق میں درست تھا، یا انہیں جاوید میانداد کو تاریخ رقم کرنے کا موقع دینا چاہیے تھا؟ 🤔
**👇 کمنٹس میں اپنی رائے دیں—کیا خان صاحب نے میانداد کے ساتھ زیادتی کی تھی؟**