Beauty of village

Beauty of village دہ کلی خکلا

16/05/2026

14/05/2026


Ab Aziz Shah Soniavi

13/05/2026

آج کا دن کرکٹ شائقین کے لیے کسی تہوار سے کم نہ تھا، جہاں خمار الیون اور سونیا ٹی بی این کے درمیان ایک زبردست فائنل مقابل...
29/03/2026

آج کا دن کرکٹ شائقین کے لیے کسی تہوار سے کم نہ تھا، جہاں خمار الیون اور سونیا ٹی بی این کے درمیان ایک زبردست فائنل مقابلہ دیکھنے کو ملا۔
خمار الیون نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سونیا ٹی بی این کو صرف 96 رنز تک محدود کر دیا۔ ہر بولر نے ذمہ داری سے کھیلتے ہوئے ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا، اور یوں لگ رہا تھا کہ میچ خمار الیون کے ہاتھ میں ہے۔
لیکن…! 🏏🔥
جب سونیا طالبان کی بولنگ شروع ہوئی تو ایک طوفان آیا — جس کا نام تھا سجاد احمد!
سجاد احمد نے پہلے ہی اوور سے خمار الیون کی بیٹنگ لائن کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان کی تباہ کن بولنگ کے سامنے کوئی بیٹسمین ٹھہر نہ سکا۔ انہوں نے صرف 11 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں اور پورے میچ کا رخ بدل دیا۔
💥 یہ کارکردگی نہ صرف شاندار تھی بلکہ فیصلہ کن بھی ثابت ہوئی!
آخرکار سجاد احمد کو ان کی لاجواب پرفارمنس پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔
👏 شاندار کھیل، زبردست مقابلہ، اور ایک یادگار فائنل!

درے کے مقام پر سونیا کی ٹیم ندا الرحمن کی قیادت میں ایک بار پھر بن گئی چیمپئن:عیدالاضحی کی مناسبت سے درے کے مقام پر چڑاک...
13/06/2025

درے کے مقام پر سونیا کی ٹیم ندا الرحمن کی قیادت میں ایک بار پھر بن گئی چیمپئن:

عیدالاضحی کی مناسبت سے درے کے مقام پر چڑاکوٹ کرکٹ کمیٹی نے ایک بہترین کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد کروایا جس میں مختلف گاؤں کی ٹیمیں شریک رہیں ۔
ٹورنامنٹ کا آغاز زبردست تھا ساری ٹیموں نے ایک دوسرے سے خوب زور آزمائی کی ، شدید گرمی کے باوجود کھلاڑیوں اور شائقین کرکٹ کا جذبہ قابلِ دید تھا ۔۔۔۔

مختلف مراحل سے ہوتے ہوئے جب ٹورنامنٹ فائنل کے آخری مرحلے میں پہنچا تو وہاں سونیا ندا الرحمن اور چڑاکوٹ لقمان کی صرف دو ٹیمیں آخری معرکے میں آمنے سامنے تھیں ۔۔۔

ٹاس جیتا لقمان چڑاکوٹ نے اور انہوں نے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ،
سونیا کی ٹیم نے اوپن کرانے کے لیے عزیز ساحل اور عاقب جاوید کی جوڑی کو میدان میں اتارا اور ان دونوں پر اعتماد کیا ، عمدہ آغاز فراہم کرنے کے بعد عاقب جاوید جب چلتا بنے تو میدان میں ڈینجر مین عابد علی کو اتار دیا ،
عزیز ساحل جو ایک طرف سے بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کر رہے تھے عابد علی نے خوب ان کا ساتھ دیا ،
دونوں بلے بازوں نے رنز کے رفتار کو کم ہونے نہیں دیا ، دونوں بلے بازوں نے یکے بعد دیگرے بڑے بڑے اور بڑے چکھے لگا لگا کر شائقین کرکٹ کو خوب محظوظ ہونے کا موقع دیا ، مقررہ 6 اوورز کے اختتام پر سونیا کی ٹیم نے 1 وکٹ کے نقصان پر 104 رنز کا ہدف دیا جس میں عاقب جاوید نے 10، عزیز ساحل اور عابد علی نے قریباً 40 چالیس رنر سکور کئے ۔۔۔۔

ہدف کے تعاقب میں چڑاکوٹ کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا ، ان فارم اور سب سے بااعتماد بلے باز لقمان خان پہلی اوور میں عاقب جاوید کا نشانہ بنے ، اس کے بعد آنے والے بلے بازوں میں ٹکنے اور ہدف کے تعاقب کا حوصلہ باقی نہیں رہا ، وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی گئ ، فرسٹ سلیپ میں کھڑے فضل الرحمان نے دو مین بلے بازوں کو رن آؤٹ کرکے باقی کا سارا کام تمام کر دیا ، قریباً صرف 50 رنز بنا کر چڑاکوٹ کی ٹیم نے پورے 6 اوورز کھیلے۔
اور یوں سونیا کی ٹیم نے ندا الرحمن کی قیادت میں 53 رنز سے فائنل میچ جیت کر ٹورنامنٹ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔۔۔

وہ ٹیم چیمپئن کیوں نہ بنے جس میں ٹرپل A کی ٹرائیو(عزیز،عاقب،عابد) باؤلنگ اور بیٹنگ میں مخالف ٹیم کو ناکوں چنے چبوائے ، وہ ٹیم جس میں ہر کھلاڑی کا مقصد صرف ایک ہی ہو اور وہ مقصد بہر صورت جیت کے لیے کھیلنا ہو ، وہ ٹیم جس کا ہر کھلاڑی ایثار کا جذبہ رکھتا ، وہ ٹیم جس کا ہر کھلاڑی اپنے اوپر دوسرے باصلاحیت کھلاڑی کو ترجیح دیتا ہو ، وہ ٹیم جس کا کپتان ندا الرحمن ہو ، وہ ٹیم جس میں حسین جیسے تحمل مزاج عقل و دانش کا ہیرا جیسا کھلاڑی ہو، وہ ٹیم جس میں فضل الرحمان جیسا باوفا آؤ بے پناہ صلاحیت والا کھلاڑی اور زبردست فیلڈر ہو ، وہ ٹیم جو ہر معاملے میں مشورے پر چلتا ہو اور ہر کھلاڑی کے مشورے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہو ، وہ ٹیم جس کے باقی کھلاڑیوں میں سجاد خان ، محمد اسامہ ، حمید اللہ ، محمد عیسیٰ ، طفیل خان جیسے کھلاڑی شامل ہو اس کی جیت کے امکانات روشن سے روشن تر ہو جاتے ہیں اور پھر ایسی ٹیم چیمپئن نہ بنے تو پھر کیا بنے ؟؟؟؟

اور آخر میں وہ ٹیم جس کے شائقین بڑی تعداد میں دوطرفہ ساڑھے تین چار گھنٹے کا سفر طے کر کے میچ دیکھنے اور سونیا کی ٹیم کو سپورٹ کرنے جائیں وہ ٹیم اس لائق ہے اور اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ چیمپئن بنے اور جب وہ ٹیم چیپمین بن جائے تو اسے مبارکباد دینا بنتا ہے ۔

آخر میں ہم سونیا کے ان تمام شائقین کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہیں اور انکی مبارکباد کو قبول کرتے ہیں جن کے دل اپنے گاؤں کے کرکٹ کے لیے دھڑکتا ہو ۔۔۔۔

اور ہم چڑاکوٹ کمیٹی کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے ایک خوبصورت کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد کروایا اور اسے خوش اسلوبی سے اختتام تک پہنچایا ۔۔۔۔

تھینکس اینڈ کنگروجولیشن اگین اینڈ اگین

تحریر نگار: محمد عیسیٰ سونیا وی ۔

12/04/2025
13/01/2025

داستان ایک سنسنی خیز مقابلے کی:

اتوار کا دن تھا صبح کے ساڑھے دس بج چکے تھے ، میچ کا آغاز ہو چکا تھا ، دو ٹیمیں بھرپور تیاری اور شاندار مقابلے کیلئے پرجوش تھی ،
کپتان اے سلام ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کرچکا تھا ، سامنے ماجد کی قیادت میں دو اوپنرز کریز پر پہنچ چکےتھے ،
سہیل انور اور سلیمان نظر نے دھیمے رفتار سے سکور بنانے شروع کئے ، سجاد ، عبداللہ ریاد ، سلام سعید منان جان ، کی گھومتی گیندوں کو سہیل انور بڑی مہارت اور سکل فل انداز میں ڈیفنڈ کرتے رہیں ، پھر وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع ہوا ، سلیمان پہلے کھلاڑی تھے جو آؤٹ ہو گئے اس کے بعد عبدالمنان نے ایک ہی اوور میں طاہر اور عطاء اللہ کو پویلین بھیجا ،
رنو کی سلو رفتار ایک طرف اور گرتی وکٹیں دوسری طرف مسئلہ بن چکا تھا ، عزیز ساحل بیٹنگ کرنے آئے اور آتے ساتھ چھاتے گئے ، سنگل ڈبل اور بڑے شارٹس کھیلتے ہوئے نہ صرف گرتی وکٹوں کے سلسلے کو تھاما بلکہ ساتھ ہی ساتھ رنوں کی رفتار کو بھی خاصا بڑھا یا ،
12 اوورز تک جو سکور رینگتے ہوئے 70 رنز ہو چکے تھے عزیز نے یک دم کایا پلٹا یا ، ایکسیلیٹر دبایا، سہیل انور بھر پور ساتھ دے رہے تھے ، بڑے تحمل ، برداشت اور دیکھ بال کر بہترین ٹیمپرا منٹ اور کلاس کے شو آف کرنے میں مگن دکھائی دیئے ،

سہیل انور سٹرائیک روٹیٹ کرتے رہیں جبکہ عزیز ساحل نے اٹیک سے کام لیا ، سہیل کے آؤٹ ہوتے ہی جمال حیات نے بیٹنگ کے لیے پوزیشن سنبھالا ، عزیز نے سکور کی رفتار کو خوب تیز جاری رکھا اور جمال دوسرے اینڈ پر ساتھ دیتے رہے ، پھر وقت وہ آیا جب جمال نے مار کٹائی شروع کردی ، عزیز ساحل پہلے ہاف سینچری اور پھر سینچری کی طرف تیزی سے بڑھتے گئے ، اور لگ بھگ انیسویں اوور میں ایک خوبصورت اور تیز طرار سینچری سکور کر ڈالی ،
سینچری کے بعد ایک چھکا لگایا اور پھر اینڈ میں ذیشان کا شکار ہوئے مگر اس سے پہلے وہ تباہی کرچکے تھے ،
علاوہ ازیں جمال خان نے عمدہ 30+ کی اچھی باری کھیلی اور با چا کی وکٹوں کے پیچھے ایک آؤٹ سٹینڈگ ایفرٹ کی وجہ سے آؤٹ ہوگئے تھے ۔۔۔۔۔
مقررہ اوورز کے اختتام پر ماجد الیون نے 242 کا ہدف دیا ۔۔۔
ہدف کے تعاقب میں کپتان اے سلام نے تجربہ کار باچا کے ساتھ بیز بال طرز سے کھیلنے والے ایم عیسیٰ کو اوپن کرنے کے لیے بھیجا ، جمال اٹیکر تھے پہلی چار گیندو پر صرف ایک رنز بنا مگر آخری دو گیندیں باؤنڈری لائن سے باہر گئ ،
دوسرے اور میں طاہر سیٹ کو با چا نے دو چھکے جڑ دیئے جبکہ ایک چھکا عیسیٰ کے بلے سے نکلا۔۔۔
تین اوورز کے اختتام پر ٹیم ففٹی مکمل ہوگئی ، ایک اچھا تیز سٹارٹ مل چکا تھا مگر عزیز ساحل نے بالنگ سے اپنے پرفامنس دکھانا شروع کیا ، چوتھے اوور میں صرف دو رنز دے کر بریک تھرو دلوا کر باچا سے چھٹکارا حاصل کیا ، اگلے اوور میں جمال کو ایک چھکا لگا نے کے بعد دوسری گیندوں کو تیز ہواؤں کے مخالفت میں چھکا لگانے کی چکر میں سٹیٹ باؤنڈری پر عیسیٰ نے عزیز ساحل کو کیچ دے دیا ، یہاں عزیز نے فیلڈنگ میں اپنی حاضری کا ثبوت دیا کیونکہ سورج کی تیز شعاعوں اور ہوا میں بلند ی سے آتے کیچ کو لےنا کسی صورت آسان نہیں منا جاتا ہے ۔۔۔۔۔
جہاں دو اوورز میں 42 اور تین اوورز میں ففٹی مکمل ہو چکی تھی وہاں 8 اوورز کے اختتام پر سکور کی رفتار میں خاصی کمی آ چکی تھی اور 8 اوورز بعد سکور محض 79 تھا ،
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ذیشان اور قاری ابوبکر بھی آؤٹ ہو چکے ،
7 بلے بازوں میں سے 4 کے آؤٹ ہونے کے عبداللہ نے چارج سنبھالا اور اسوقت اسکا ساتھ دینے کے لیے سجاد خان موجود تھے، دو اوورز میں عبداللہ ریاد نے ایکسیلیٹر کو یوں دبا کر رکھا کہ دس اوورز کے اختتام تک سکو 120 ہو چکے ،
157 پر سجاد کی وکٹ گری سجاد سہیل انور کا شکار بنے ، ایک موسٹ ایمپورٹنٹ بریک تھرو دلانے کے بعد ماجد الیون کا گیم پر پکڑ/ کنٹرول اور مضبوط ہوا۔۔۔
مگر عبداللہ ہار ماننے والے کہاں تھے ، لمبے لمبے چکھوں ہر چھکے لگاتے رہے کسی بولر کو خاطر میں لائے بغیر عبداللہ نے سینچری داغ دی ،
36 گیندوں پر 42 رنز کی ضرورت تھی کہ کپتان نے دوبارہ سہیل انور کو گیند تمھایا ، پہلی دو گیندیں باؤنڈری کے باہر گئے ، محض 30 رنز کی دوری پر تھی ، عبداللہ فل کنٹرول میں تھا ، میچ سلام الیون کے فیور تھا کہ ایک باہر جاتی گیند پر غیر ضروری شاٹ کھیلتے ہوئے عبداللہ 140+ سکور بناکر کاٹ بی ہانڈ ہوئے اور سہیل نے ایک بار پھر اہم مرحلے پر ایک بڑی وکٹ دلوائی ۔۔۔۔۔۔
تیس رنز اور آخری وکٹ اے منان اور اے سلام نے رنز بنانے شروع کئے ، طاہر کے اوورز میں منان کے بلے سے ایک بہترین چھکا نکلا علاؤ ازیں 19 رنز بنے ،
18 گیندوں پر 11 رنز بنانے کو تھے آخری وکٹ تھی اور عزیز ساحل آئے اوور کرانے ایک چوکا اے سلام نے لگایا دو ڈاٹ گیندیں کھیلی مگر اس کے بعد عزیز ادھورا جاب ڈن کردیااور سلام کو بولڈ کیا اور یوں ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد ماجد الیون 5 رنزوں سے فتح یاب ہوگئ ۔۔۔۔۔۔

محمد عیسیٰ ۔

(ٹائپنگ ایرر کے لیے پیشگی معزرت)

Address

Dustic Torghar
Mansehra

Telephone

+923318980056

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Beauty of village posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Beauty of village:

Share

Category