24/08/2026
*کے ڈی اے ہسپتال کی بدترین صورتحال — ایک لمحۂ فکریہ*
آج کوہاٹ کے ڈی اے ہسپتال جانے کا موقع ملا۔ یقین جانیے، وہاں کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو رو دیا۔ پاکستان بالعموم اور کوہاٹ بالخصوص میں اللہ تعالیٰ کسی کو بیماری اور علاج کے لیے ایسے حالات سے دوچار نہ کرے۔
ہسپتال کے بدحال مریض اور ان کے تیماردار جس اذیت ناک اور ناگفتہ بہ صورتحال سے گزر رہے تھے، اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ یہ محض ایک میڈیکل وارڈ کی داستان ہے، جہاں مریض بنیادی سہولیات سے محروم اور بے یار و مددگار دکھائی دیے۔ بعض وارڈ اٹینڈنٹس کا رویہ بھی انتہائی نامناسب، غیر ذمہ دارانہ اور انسانیت کے بنیادی تقاضوں سے عاری محسوس ہوا۔ نہ کسی مریض کی فریاد سننے کو آمادگی، نہ کسی مجبور تیماردار کی پریشانی کا احساس۔
مریضوں کے لیے مناسب نشست کا کوئی انتظام نہیں تھا؛ لوگ زمین پر بیٹھنے اور لیٹنے پر مجبور تھے۔ شدید گرمی اور حبس کے باوجود وارڈ میں ہوا اور پنکھے جیسی بنیادی سہولت تک میسر نہیں تھی۔ سوال یہ ہے کہ ایک بیمار انسان، جو پہلے ہی جسمانی تکلیف میں مبتلا ہے، وہ ایسے ماحول میں علاج کیسے حاصل کرے؟
کوہاٹ جنوبی خیبر پختونخوا کا ایک اہم، بڑا اور مرکزی ضلع ہے۔ اگر یہاں کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کی حالت یہ ہے تو پھر دور دراز اضلاع کے ہسپتالوں اور وہاں علاج کے لیے آنے والے غریب عوام کا اللہ ہی حافظ ہے۔
اس صورتحال پر بالخصوص کوہاٹ کے منتخب عوامی نمائندگان کو سنجیدگی سے جواب دینا ہوگا۔ عوام نے انہیں اپنے مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے منتخب کیا ہے، محض اقتدار کے ایوانوں میں نمائندگی کے لیے نہیں۔ اسی طرح ہسپتال کے ایم ایس، ضلعی انتظامیہ، ڈپٹی کمشنر اور کمشنر بھی ان سنگین انتظامی کوتاہیوں سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر سرکاری افسران اور متعلقہ حکام سال میں ایک آدھ مرتبہ ہسپتال کا رسمی دورہ کرتے ہیں، ماتحت عملے کی جانب سے پیش کی جانے والی خوش نما بریفنگ سنتے ہیں، چند تصاویر بنواتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ ذمہ داری پوری ہوگئی۔ مگر حقیقت ان رسمی دوروں، بریفنگز اور فوٹو سیشنز سے کہیں زیادہ تلخ اور بھیانک ہے۔
یہ محض ایک ہسپتال کی خراب حالت کا ذکر نہیں، بلکہ ہمارے پورے نظامِ صحت، انتظامی بے حسی اور عوامی نمائندگی کے دعووں کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ حکام فوٹو سیشنز اور رسمی دوروں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں، ہسپتالوں کی حقیقی صورتحال کا بلاواسطہ جائزہ لیں، نااہل اور غیر ذمہ دار عملے کا احتساب کریں اور مریضوں کو کم از کم وہ بنیادی سہولیات ضرور فراہم کریں جن کا ایک مہذب معاشرے میں ہر انسان حق دار ہے۔
بیماری انسان کو پہلے ہی توڑ دیتی ہے؛ اسے علاج گاہ میں بے بسی، تذلیل اور بنیادی سہولیات کی محرومی کا سامنا کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔