11/09/2026
فاسفورس۔
دوستو جانوروں کے جسم میں فاسفورس بھی ہڈیوں اور دانتوں کی نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہیے۔خوراک میں فاسفورس کی مستقل کمی سے دودھیل جانوروں کا دودھ کم ہو جاتا ہیے۔کیونکہ دودھ میں روزانہ فاسفورس کی مقدار کافی خارج ہوتی ہیے۔اگر اسے مناسب انداز میں فاسفورس مہیا نا کی جاۓ تو جانور کمزور ہو جاتا ہہے چمڑی خشک ہونے لگتی ہیے۔انکھیں بے رونق سی ہوتی ہیں حوانہ چھوٹا ہو جاتا ہے رت موترا جسے ریڈ واٹر بھی کہتے ہیں یہ بیماری بھی فاسفورس کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہیے۔خون کے ریڈ بلڈ سیلز ٹوٹنا شورع ہو جاتے ہیں اور پہیشاب میں شامل ہو جاتے ہیں۔جانوروں کے جسم میں چونے اور فاسفورس کی مقدار تقریباً یا کم و بیش 2 فیصد تک ہوتی ہیے۔دودھ میں بھی اور خون میں بھی یہ اجزا اکٹھے پاۓ جاتے ہیں۔اس لیے ضروری ہیے کہ ان کو ایک خاص تناسب سے خوراک میں دیا جاۓ۔چونے کی اہمیت اور اسے پلانے کا طریقہ آگے تفصیل میں اشتراک کروں گا۔جانوروں کے جسم میں چونے کی کمی فاسفورس کی نسبت کم ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہیے کہ مختلف اقسام کے پھلی دار چارے مثلاً تارا میرا۔گوارا توریا۔میں کافی مقدار میں پایا جاتا ہیے۔یاد رکھیں فروری کے ماہ میس جب رایا سرسوں توریا عروج پے ہوتا ہیے تب جانور اچانک بہت زیادہ دودھ دینے لگ جاتے ییں اس کی وجہ بھی یہی چونے کا وافر مقدار میں ملنا ہیے۔مگر فاسفورس مختلف چاروں میں کم ہوتا ہیے۔تاہم دودھیل جانور جنہیں مناسب مقدار میں آمیزہ اجناس ونڈا وغیرہ دیا جا رہا ہو تو اس سے جانور میں فاسفورس کی کمی نہیں ہوتی۔گندم کے چلکے جسے چوکر گندم بھی کہتے ہیں۔السی اور بنولہ کی کھل میں کثیر مقدار میں پایا جاتا ہیے۔اس لیے میں ہمیشہ دودھیل جانور کو کھل بنولہ کھلانے کا مشورہ دیتا ہوں۔جس سے دودھ کی مقدار میں 40 سے 45 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں ایا ہے۔میرے علاقہ کے لوگ پہلے میری یہ بات نظر انداز کر دیتے تھے مگر اب اردگر کے تمام بڑے فارمر کھل بنولہ استعمال کر رہیے ہیں۔۔لیکن فاسفورس کی مستقل کمی کو پورا کرنے کے لیے ہڈیوں کا چورا دینے سے اس کا مستقل حل ممکن بنایا جا سکتا ہیے۔۔جانوروں کے جسم میں چونا اور فاسفورس ایک خاص نسبت سے جزو بدن بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تجربات سے معلوم ہوا ہیے بہترین نسبت دو حصے چونا۔ایک حصہ فاسفورس ملنے سے حاصل ہوتی ہیے۔اس کے علاوہ ان دونوں اجزا کے جز بندن بننے میں وٹامن D بھی نہیایت اہم کردار ادا کرتا ہیے جس کا ذکر میں پہلی والی تحریر وٹامن میں بھی کر چکا ہوں۔وٹامن D کے بغیر یہ دونوں اجزا ہضم نہیں ہوتے اور جز بدن نہیں بن سکتے۔اس لیے وٹامن D کے ساتھ ساتھ فاسفورس اور چونے کا بھی جانورں کی خوراک میں مناسب مقدار میں شامل ہونا بہت ضروری ہیے۔اس لیے اشرف نہیازی صاحب اشفاق ضیا صاحب امان الللہ بلوچ صاحب اپ کو ہمیشہ منرل مکسچر استعمال کرنے کی بار بار ہدایت کرتے ہیں جن میں یہ سب چیزیں مناسب مقدار میں ہوتی ہیں۔۔ساتھ ساتھ جانوروں کو چونے کا نتھار پلایں۔کھل بنولہ استعمال کریں۔اور پھلی دار چارہ جانورں کو زیادہ کھلایا کریں تو اپ کے جانور فاسفورس اور چونے کی کمی سے محفوظ رہیں گے۔