11/06/2026
حکومت نے اپنی طرف سے نیٹ میٹر نگ پالیسی ختم کر کے نیٹ بلنگ پالیسی شروع کر کے ڈیڑھ شانی حرکت کی کہ ہم عوام کو چونا لگا لیں گے اور ان سے ہی خریدی ہوئی سستی بجلی انکو ہی مہنگے داموں واپس بیچے گے اور ہمارےآئی پی پیز کے کھانے چلتے رہے گے لیکن شاید حکومت یہ بات بھول گئی تھی ضرورت ایجاد کی ماں ہے ، ایک در بند ہوتا ہے تو دوسرا کھل جاتا ہے ، اور دوسرا در ایسا کھلا کہ حکومت بوکھلا گئی ہے اور اب نئی پالیسی بنانا شروع کر دی ہے اب اس نئی پالیسی میں کیا ہو گا وہ آپکو بتاؤں گا لیکن پہلے سوکر انرجی سسٹم کو سمجھتے ہیں
حکومت نے پالیسی بنائی کہ لوگ سولر سسٹم لگائیں نیٹ میٹرنگ ہو گی عوام سے بجلی خریدیں گے ملک میں لوڈ شیڈبگ ختم ہو جایے گی ، بلکل ایسا ہی ہوا عوام نے ایک کے بعد ایک سولر انرجی سسٹم لگوائے ، گرین میٹر لگوائے حکومت کو بجلی بیچی اور خود عیاشی کی ان کے دیکھا دیکھی ہر شخص نے سولر انرجی پر منتقل ہونا شروع کر دیا کچھ لوگون نے تو اپنی ضرورت سے زیادہ سولر پینلز لگوا کر حکومت کو بجلی بیچی الٹا حکومت کو اپنا مقروض کر لیا ،اب گرین میٹر سے جو ڈیٹا آ رہا تھا اس نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا کہ اگر معاملہ ایسا ہی چلتا رہا تو الٹا حکومت عوام کی مقروض ہو جایے گی اور ہم ان سے کسی قسم کی وصولی بھی نہیں کر سکے گے الٹا آیی پی پیز کی رقم سر چڑھ کر ننگا ناچ ناچے گی تو سرکاری بابوؤں نے جلدی سے ایک اور پالیسی بنائی کہ اب نیٹ میٹرنگ نہیں بلکہ نیٹ بلنگ ہو گا ، یعنی یونٹ کے بدلے یونٹ مفت نہیں ملے گے بلکہ آپ سے دس روپے کا یونٹ خرید کر آپکو واپس 29 روپے ایوریج کے حساب سے بیچا جائے گا فکسڈ چارجز کا بھوت الگ سے پیچھا کرنے لگا عوام پریشان ہو گئی اور یہی سے دوسرا در کھلا ایسا در جس نے حکومت کی پالیسی کو اڑا کر رکھ دیا
حکومت نے نیٹ بلنگ پالیسی بناتے ہوئے زرا بھی نہیں سوچا تھا عوام اس کا متبادل کیا استعمال کرے گی ، حکومت کو صرف بل میں آتے ہویے روپے نظر آ رہے تھے جو کھربوں میں تھے جب انہوں نے سب ہرا ہرا دیکھا اور زمینی حقیقتوں کو نظر انداز کیا تو نتیجہ ان کی سوچ کے برعکس نکلا ، عوام نے حکومت کے اوپر انحصار کرنا ہی بند کر دیا الٹا آف گرڈ اور ہائبرڈ سولر انرجی ماڈل کی طرف منتقل ہو گیے ، مارکیٹ میں لیتھیم بیٹریوں کی فروخت میں بڑا اضافہ ہوا اور حکومت کے کام کھڑے ہو گئے کہ پالیسی بنا کر غلطی کی ہے جس کو حکومتی وزیر نے ڈھٹائی کے ساتھ ڈیفنڈ کرنے کی کوشش کی اور کہا آف گرڈ جانے والے صارفین الٹا ہمیں فائدہ دے گے اس سے وہ لوگ جو سولر انرجی نہیں افورڈ کر سکتے ان کو سستی بجلی فراہم کرے گے لیکن یہ متبادل نہیں تھا بلکہ یہ بغاوت تھی سسٹم کے ساتھ اور عوام نے خاموشی سے وہ بغاوت کر دکھائی
اب عوام نا نیٹ میٹرنگ کے جھنجھٹ میں پڑ رہے ہیں نا نیٹ بلنگ کے دھوکے میں آ رہے ہیں وہ سیدھا آف گرڈ یا ہائبرڈ ماڈل پر جا رہے ہیں جس سے حکومت کو پتا ہی نہیں چل رہا کہ اس وقت کتنے صارفین ایسے ہیں جو خاموشی سے ان کے سسٹم سے باہر ہو گئے ہیں ، کیونکہ لیسکو ، فیسکو اور آئیسکو میں گزرتے دن کے ساتھ بجلی کی پیدوار بڑھ اور استعمال کم ہو رہی ہے کیا آپ اس بات پر یقین کر سکتے ہیں جون کا مہینہ ہو اور بجلی کی کھپت کم ہو رہی ہو ؟ بس یہ معجزہ ہو چکا ہے اور اب حکومت ایک سروے کروا رہی ہے جس میں دیکھا جائے گا کہ کس کس شہری نے اپنے گھر کی چھت یا دیگر عمارتوں پر سولر انرجی سسٹم لگوا رکھا ہے اور نیشنل گرڈ کو اس کے بارے میں پتا ہی نہیں ،
اب سرکاری بابو اس سروے کے بعد حکومت کو نوٹ چھاپنے کا نیا طریقہ بتائیں گے کہ کس طرح مزید فکسڈ چارجز لگائے جا سکتے ہیں ، کیسے لیتھیم بیٹری مہنگی کی جا سکتی ہے ؟ یا سولر پینلز پر کس طرح ٹیکس بڑھا کر اسے عوام کی پہنچ سے دور کیا جا سکتا ہے تاکہ سرکار کا خزانہ خالی نا ہو ، لیکن کوئی بھی بابو یہ نہیں بتائے گے کہ سولر انرجی کا یہ انقلاب آیا ہے اس کا پازیٹو استعمال کریں ، اس بجلی کو صنعت کو منتقل کریں ، اس بجلی کو استعمال کر کے ملک کی ایکسپورٹ بڑھائے لیکن یہ ایسا نہیں کرے گے یہ الٹا ان کی صارفین پر مزید ٹیکس لگائے گے نتیجہ کیا نکلے گا لوگ ابھی بل بھرنے سے انکاری ہو رہے ہیں پھر ٹیکس کا بھی کوئی عدالتی جگاڑ نکال لیں گے اور اسٹے لیکر بیٹھے رہے گے پھر حکومت کو نا فکسڈ چارجز ملے گے اور نا ہی بل صرف سورج کی روشنی ملے گی اور اس میں چمکتے ہوئے سولر پینلز نظر آیے گے