Serve The People

Serve The People Awareness to the Muslims who are none other but the Ahl sunnah, on what is going on in the Muslim lands !

''I try to give to the poor people for love what the rich could get for money. No, i wouldn't touch a l***r for a thousand ponds; yet i willingly cure him for the love of God.''

02/06/2026

یہ مسلمان کی بیٹی نے ہندوستان کی ظالم حکمرانوں سے رو رو کر فریاد کر رہی ہے اس کے فریاد نے پورے عالم اسلام کو رولا رہا اس ویڈیو کو دیکھنے والوں کا انکھیں نم ہو گئے اللہ تعالی اپنے حبیب کے صدقے میں ہندوستان کے مسلمانوں کو محفوظ پناہ میں رکھے

اسرائیل نے حزب اللہ کو اس لیے چھٹی دے رکھی تھی کہ وہ شامیوں کیخلاف لڑ رہی تھی کیونکہ جو کام اسرائیل نے کرنا تھا وہ حزب ا...
01/06/2026

اسرائیل نے حزب اللہ کو اس لیے چھٹی دے رکھی تھی کہ وہ شامیوں کیخلاف لڑ رہی تھی کیونکہ جو کام اسرائیل نے کرنا تھا وہ حزب اللہ کررہی تھی آج جب چالیس سال بعد حزب اللہ اور اسرائیل کا آمنا سامنا ہوا تو جنوبی لبنان اسرائیل کے حوالے کر بیٹھے ہیں ۔
شیعہ سنی فسادات کا یہی نتیجہ نکلتا ہے اس وقت قاسم سلیمانی دمشق میں مکے لہرایا کرتا تھا ۔
حسن نصر اللہ ، خام نائی سمیت پوری قیادت بھی ماری گئی لبنان کا ایک حصہ بھی قبضے میں دے بیٹھے اور ادھر فتح کے جشن چل رہے ہیں ۔

31/05/2026

خدا کی رحمت ہے بزرگوں کی بشارت ہے

جنات کے کھودے ہوئے کنوئیں — حضرت سلیمانؑ کے لشکر کا حیرت انگیز واقعہسعودی عرب کے شمالی علاقے میں واقع ایک قدیم اور پراسر...
31/05/2026

جنات کے کھودے ہوئے کنوئیں — حضرت سلیمانؑ کے لشکر کا حیرت انگیز واقعہ

سعودی عرب کے شمالی علاقے میں واقع ایک قدیم اور پراسرار گاﺅں “لینہ” آج بھی تاریخ، آثارِ قدیمہ اور حیرت انگیز روایات کا ایسا مجموعہ ہے جو انسان کو صدیوں پرانے زمانے میں لے جاتا ہے۔ یہ گاﺅں نہ صرف اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے مشہور ہے بلکہ یہاں موجود سینکڑوں قدیم کنوئیں اسے دنیا کے ان چند مقامات میں شامل کرتے ہیں جنہیں لوگ حیرت، تجسس اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کنوئیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم پر جنات نے کھودے تھے، اور انہی کنوﺅں کی وجہ سے یہ علاقہ عرب کی قدیم تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔

لینہ سعودی عرب کے شمالی شہر رفحا سے تقریباً ایک سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ علاقہ قدیم تجارتی راستوں کے سنگم پر آباد تھا، اسی لیے اسے صدیوں سے قافلوں کی آرام گاہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ بیت المقدس سے یمن تک جانے والے مسافر اور تاجر اسی راستے سے گزرتے تھے۔ بعد میں ملکہ زبیدہ کی تعمیر کردہ مشہور شاہراہ “دربِ زبیدہ” بھی اسی مقام سے گزری، جس نے اس علاقے کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔

اس قدیم بستی میں موجود تقریباً تین سو کنوئیں آج بھی لوگوں کو حیران کر دیتے ہیں۔ ان کنوﺅں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ عام زمین میں نہیں بلکہ سخت پتھریلی چٹانوں کو کاٹ کر بنائے گئے تھے۔ ان میں سے کئی کنوئیں ساٹھ سے اسی میٹر تک گہرے ہیں۔ جدید دور کے ماہرین آثار قدیمہ اور انجینئرز اس بات پر حیران ہیں کہ ہزاروں سال پہلے اتنی سخت چٹانوں کو کس طرح تراشا گیا ہوگا۔ کنوﺅں کی دیواروں پر ایسے نشانات موجود ہیں جو کسی جدید ڈرل مشین کی مانند دکھائی دیتے ہیں، اسی وجہ سے بہت سے محققین انہیں ایک حیرت انگیز معمہ قرار دیتے ہیں۔

روایات کے مطابق جب حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے عظیم لشکر کے ساتھ یمن کی طرف روانہ تھے تو راستے میں اس مقام پر قیام فرمایا۔ آپؑ کے لشکر میں انسانوں کے ساتھ جنات اور پرندوں کے لشکر بھی شامل تھے۔ شدید گرمی اور خشک زمین کی وجہ سے پانی کی سخت ضرورت محسوس ہوئی۔ لشکر کے لوگ پیاس سے بے چین ہونے لگے۔ اسی دوران حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات کے ایک کمانڈر “سبطر” کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔ آپؑ نے اس سے وجہ پوچھی تو اس نے عرض کیا کہ پانی زمین کے اندر موجود ہے، بس اسے نکالنے کی ضرورت ہے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا کہ فوراً پانی کا انتظام کیا جائے۔ روایت میں آتا ہے کہ جنات نے بہت کم وقت میں چٹانوں کو توڑ کر تین سو کنوئیں کھود ڈالے۔ جلد ہی ان کنوﺅں سے میٹھا پانی نکل آیا اور پورا لشکر سیراب ہوگیا۔ یہی وہ کنوئیں ہیں جن کے آثار آج بھی “لینہ” میں موجود ہیں۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ بیشتر کنوئیں خشک یا ناکارہ ہو چکے ہیں، لیکن آج بھی تقریباً بیس کنوﺅں سے میٹھا پانی حاصل کیا جاتا ہے۔

معروف سعودی محقق حمد الجاسر نے بھی اپنی تحقیقات میں اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق تاریخی روایات اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر اس مقام پر ضرور رکا تھا۔ اسی طرح مشہور مؤرخ یاقوت حموی نے اپنی معروف کتاب “معجم البلدان” میں “لینہ” کے ان کنوﺅں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ علاقہ اپنے میٹھے پانی کی وجہ سے پورے عرب میں مشہور تھا۔ ان کے زمانے تک بھی یہ کنوئیں پانی سے بھرے ہوئے تھے اور قافلے یہاں رک کر پانی حاصل کرتے تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ علاقہ ایک اہم تجارتی مرکز بن گیا۔ عراق، نجد اور شمالی عرب کے تاجر یہاں آکر اپنی منڈیاں لگاتے۔ پہاڑوں میں بنے بڑے بڑے گوداموں میں سامان محفوظ کیا جاتا، جنہیں “سیابیط” کہا جاتا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی قدیم گودام آج بھی موجود ہیں اور اس علاقے کی تجارتی تاریخ کی خاموش گواہی دیتے ہیں۔

لینہ میں ایک تاریخی قلعہ بھی موجود ہے جسے 1354 ہجری میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ قلعہ پتھروں، لکڑی اور گارے سے بنایا گیا اور اس کا مقصد علاقے کی حفاظت اور مسافروں کو پناہ فراہم کرنا تھا۔ آج یہ قلعہ سعودی عرب کے قدیم طرزِ تعمیر کی خوبصورت مثال سمجھا جاتا ہے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر قرآنِ کریم میں ایک ایسے عظیم نبی اور بادشاہ کے طور پر آیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں، پرندوں اور جنات پر حکومت عطا فرمائی تھی۔ جنات آپؑ کے حکم سے مختلف تعمیراتی کام انجام دیتے تھے۔ قرآنِ مجید میں ذکر ہے کہ وہ آپؑ کے لیے عظیم عمارتیں، محرابیں اور بڑے بڑے حوض بناتے تھے۔ بیت المقدس کی تعمیر میں بھی جنات نے حصہ لیا تھا۔ وہ سمندروں سے موتی نکالتے اور دور دراز علاقوں سے بھاری پتھر لا کر تعمیرات میں استعمال کرتے تھے۔

28/05/2026

عرفات 85 سال پہلے

28/05/2026

"IM NOT SHAITAN"😅😆

*مہاجرین کی نشستیں آئینی حق، کوئی رعایت نہیں*🔴 آزاد کشمیر کا عبوری آئین اور قانون ساز اسمبلی 1970 میں قائم ہوئی، اور اُس...
26/05/2026

*مہاجرین کی نشستیں آئینی حق، کوئی رعایت نہیں*

🔴 آزاد کشمیر کا عبوری آئین اور قانون ساز اسمبلی 1970 میں قائم ہوئی، اور اُس وقت سے ہی مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے نشستیں موجود ہیں۔ یہ نشستیں کشمیری مہاجرین کا آئینی، تاریخی اور قومی حق ہیں۔

⚠️ عوامی ایکشن کمیٹی کے فسادی عناصر نہ تاریخ سے واقف ہیں اور نہ آئین سے۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ مہاجرین سے اُن کا آئینی حق چھیننا دراصل کشمیر کاز پر حملہ ہے۔

✊ کشمیری عوام ہر اُس سازش کو مسترد کرتے ہیں جو مہاجرین کی نمائندگی ختم کرنے اور ریاستی تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے کی جائے۔

25/05/2026

اللہ کے حضور سب حاضر🙏

23/05/2026
23/05/2026

ان بےغیرتوں کی سن لو
دہلی کے پتم پورہ میں جمعہ کو مقامی باشندوں اور ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ افراد کے ایک بڑے ہجوم نے ایک مدرسے کی دیوار کو گرا دیا، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ یہ ڈی ڈی اے کی زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نازیبا اور توہین آمیز زبان استعمال کی گئی اور ان کے بچوں کو دہشت گرد کہا گیا۔

Address

Madina Street
Dina
00000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Serve The People posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category