20/05/2026
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے احباب جماعت بخیر ہونگے ۔
الحمدللہ تاریخ 19/مئی/2026ء بروز منگل مسجد عثمان بھوج میں جمعیت کے اہم ذمہ داران قابل ذکر شیخ بلال جامعی ؔ، حاجی عبدالوہاب بچو، حافظ ممتاز محمدیؔ ،سلیمان سمار ممن ، شعیب سلیمان گگڑا ، شیخ عبدالرشید محمدیؔ، شیخ عبدالخالق محمدیؔ، شیخ الیاس ازہریؔ، شیخ محمد حنیف سلفیؔ وغیرہ کی حاضری میں رؤیت ہلال کے تعلق سے مشورہ کیلیے جمع ہوئے ۔
اس میٹنگ میں سب سے پہلے صوبائی جمعیت اہل حدیث گجرات کے امیر اور ناظم دونوں سے رابطہ کیا گیا اور اہم معلومات حاصل کی گئی ۔
اس میٹنگ سے قبل تمام اپنے چھ گواہوں کو بھوج آنے کیلیے کہا گیا لیکن تین گواہ ہی حاضر ہوسکے بقیہ لوگوں نے گواہی دینے سے انکار کردیا ۔
جن سے ان تمام ذمہ داران کی حاضری میں مختلف سوالات پوچھے گئے اور ان کی ریکارڈنگ بھی کی گئی ۔
زیادہ تر یہی ثابت ہوا کہ چاند دوربین سے دیکھا گیا پھر آنکھ سے دیکھا گیا لیکن جو تصاویر وائرل کی گئیں وہ دوربین کے ذریعہ موبائل کی تھیں نا کہ ڈائریکٹ موبائل سے ۔ یہ بھی پتہ چلا کہ موبائل سے ڈائریکٹ فوٹو لینا ممکن نہیں تھا ایسا چاندتھا ۔ دوربین اور سینسر کے استعمال سے چاندکی نشاندہی کی گئی تھی ۔
ان تین کی گواہی لینے کے بعد شیخ عبدالوہاب مدنی سے رابطہ کیا گیا ۔ انہوں نے تفصیل سے اس اختلاف کے حل کی تمام ذمہ داران سے گفتگو کی اور دلائل اور ماضی کے واقعات سے سمجھانے اور فیصلہ کرنے کی طرف توجہ دلائی ۔
اس میں کچھ شبہات تھے جس کا ذکر کیا گیا ۔
کہ نڑیا د کے احباب کو چاند دیکھنے کیلیے یہاں آنے کی کیوں ضرورت پڑی؟ دوربین سے تو وہاں بھی دیکھ سکتے تھے نڑیاد گجرات وغیرہ میں؟
اسی طرح مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور ہندوستان بھر کی صوبائی و ضلعی جمعیات کی طرف سے کوئی بھی چاند دیکھنے کی اطلاع یا 27 مئی کوعید منانے کی اطلاع موصول نہ ہوئی ۔
اگر ہم پورے ہندوستان کی اجتماعیت کو دیکھیں تو وہ چاند نہ ہونے کی تصدیق کرتی ہے ۔ پورے ملک کے خلاف جانا ہمارے لیے علاقائی طور پر اور مسلکی طور پر مستقبل میں نقصان دہ ہے اور فتنہ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے ۔
چاند جس جگہ سے دیکھا گیا وہاں سے آگے ہمارے ملک کا ٹائم زون چینج ہوجاتا ہے یعنی وہ مطلع ہمارے ملک کا نہیں بلکہ پڑوسی ملک کا ہے ۔
یہ احباب تین دن قبل ہی اپنے علاقہ کچھ میں آئے تھے لیکن کسی بھی ذمہ دار شخص سے رابطہ نہیں کیا نہ ہی صوبائی و ضلعی جمعیت سے رابطہ کیا یہاں تک کہ چاند دیکھنے کے بعد بھی انہوں نے ڈائریکٹ نڑیاد سے لیٹر پیڈ پر چاند کی خبر وائرل کردی پھر یہاں اطلاع دی جب ان پر دباؤ پڑا ۔
یہ احباب کچھ دن پہلے ہی رابطہ میں تھے کہ چاند دیکھنا ہے اور اس کا گواہ بننا ہے جب کہ کسی ذمہ دار شخص کو اطلاع دے سکتے تھے یا ساتھ میں رکھ سکتے تھے ۔
خیر جو بھی ہو تین احباب کی گواہی کو غور سے سنا گیا اس میں کچھ متضاد باتیں بھی سامنے آئیں جس سے گواہی کمزور ہوگئی اور پھر یہ فیصلہ صوبائی جمعیت اہل حدیث گجرات کو سپر د کیا گیا کہ وہ اسکے تعلق سے فیصلہ لیں ۔
اور یہ بھی طے ہوا کہ جو عابد بھائی نے چاند دیکھنے کی 11 لوگوں کی گواہی لکھی ہے اس میں سے چند گواہی دینے کو تیار نہیں ہیں اسلیے اگریہ تمام گواہ اور یہ گروپ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند سے اپنی گواہی کی تصدیق کرالے تو ان کی گواہی مان لی جائے گی ۔
لہٰذا ! ضلعی جمعیت اہل حدیث کچھ اپنے سابقہ فیصلہ پر قائم ہے اور عیدالاضحیٰ 28 مئی کو ہی ادا کی جائے گی ان شاء اللہ تعالیٰ
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو ہر طرح اختلاف و انتشار سے محفوظ رکھے ۔آمین
مزید معلومات کیلیے رابطہ کریں ۔
فقط والسلام
محمد یونس جامعیؔ
9428566775
امیر ضلعی جمعیت اہل حدیث کچھ
20/مئی /2026 بدھ