08/03/2021
وہ ایک آس ہے، خواہش ہے، امید ہے، احساس ہے۔ کہ میں جب بھی صبح کا نکلا رات گئے تھکا ہارا گھر لوٹتا ہوں۔ وہ پیار سے میری جانب دیکھتی ہے۔ اس کی نظروں میں بے بسی ہوتی ہے۔ میرے پاس آتی ہے۔ مسکراتی ہے۔ میں اس کی مسکراہٹ کے جواب میں مسکرا دیتا ہوں۔ وہ میرے چہرے کو پڑھنے لگتی ہے۔ مجھے شوز اتارتے ہوئے دیکھتی ہے۔ تھوڑی دیر خاموش رہتی ہے پھر کہتی ہے:
"تھک گئے ہو نا؟ بیٹھو میں چائے بناکر لاتی ہوں۔"
پھر جب وہ ہاتھ میں چائے کا کپ لیے میری جانب بڑھتی ہے، مجھے لگتا ہے جیسے ساری تھکان اسی لمحے اترتی ہے۔ میں الٹے ہاتھ سے چائے پکڑتا ہوں۔ پہلا سِپ لیتے ہی دن بھر کی تھکان اتر جاتی ہے۔۔۔اور پھر۔۔۔۔ہوش میں واپس آتا ہوں۔
وہاں کوئی نہیں ہوتا۔ گھر، وہ، اس کی مسکراہٹ، چائے کا کپ اور سکون سبھی غائب ہوجاتے ہیں. خاموش نگاہوں سے ہاسٹل کے خالی کمرے کو دیکھتا ہوں. چپ چاپ شوز اتارتا ہوں۔ سلیپر پہن کر نیچے جاتا ہوں. چائے لاتا ہوں۔ میز پر رکھتا ہوں۔ سگریٹ جلاتا ہوں۔ جیسے ہی دھواں فضاء میں اڑتا ہے۔ اس کا روپ دھار لیتا ہے۔
"میں بنا دوں چائے؟"
میں خود سے ہمکلامی کرنے لگ جاتا ہوں۔