20/07/2026
مولانا مزید بگڑ گیا ایک وکلا کنونشن میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف 15 منٹ کی تقریر کرکے مزید معاملہ خراب کردیا آپ دوستوں کے لیے ویڈیو کو اردو تحریر میں لکھا ضرور پڑھیں ۔۔۔مولانا کا کہنا ہندوستان کی سرحد بند ہے، افغانستان کی سرحد بند ہے، چین آپ کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، اور جب آپ نے درخواست دی پرسوں ترسوں کہ آپ کی جو پاکستان میں ایک سو ستر ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ تھی، اور جو ہم پوری نہیں کر سکے، سو آپ مہربانی کریں اور وہ ایک سو ستر ارب ڈالر ہمیں معاف کر دیں، چائنہ نے مسترد کر دی آپ کی درخواست کو۔ دفت، ان کے علاقے سی پیک میں ابتدائی سے ہی چائنہ کام کر رہا ہے، آج اس نے وہاں سے بستر اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آپ کے چین کے ساتھ تعلقات، ایران آپ پر کتنا اعتماد کرتا ہے، لیکن پھر وہ برے حالات میں ہے۔ پاکستان کو محصور کر لیا تم نے، یہ تمہاری پالیسیاں ہیں۔ آپ انڈیا سے لڑیں، ہم نے سب سے پہلے آپ کو سپورٹ کیا ہے۔ آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی بات کی، ہم نے سپورٹ کیا کہ ہم خطے میں امن کے عمل کو ترجیح دیں گے۔ لیکن ہماری رضامندی کے باوجود آپ آ رہے ہیں، اور جا رہے ہیں، اور آ رہے ہیں، اور جا رہے ہیں، اور آ رہے ہیں، اور جا رہے ہیں، وہ گلہری کی طرح کہ "میری آں نیاں جانیاں ویکھ"۔ اور آج بھی امریکہ ایران پر حملے کر رہا ہے، آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
> تو جب امریکہ نے میرے سپہ سالار کو تھپکی دی، "You are very good man, you are very good man"، تو اس وقت تک "گڈ مین" تھا جب ہمارے جھنڈوں کے نیچے ان کے جہازوں نے حرمت کو عبور کیا، اور یہ فائدہ اٹھانے کے بعد جب ہم گھر واپس آئے، تو ایران پر پھر دوبارہ حملے شروع کر دیے۔
> اب آپ کچھ کر کے دکھا دیں نا، بتائیں تو سہی۔ افغانستان کے ساتھ آپ کی سرحد بند ہے، ملک محصور ہے، اشیاء کی قلت ہو رہی ہے، اور اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا کہ ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔
> آپ قبائل سے کہہ رہے ہیں، جگہ جگہ پر، کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا کہ نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس کے لیے آپ ہیں، آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پٹہ باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔
> آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں، تو پھر میں بتانا چاہتا ہوں آپ کو، مشرقی پاکستان میں تم نے عوام سے کہا کہ تم لشکر بناؤ، تو البدر بنا، الشمس بنا، اس نے پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔ آج بھی وہ دشمنی برقرار ہے یا نہیں؟
> عوامی لیگ اور جماعتِ اسلامی کے آج بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی گئیں؟ تو تم ہماری قوم کو اور عام آدمی کو اس طرح کی دشمنی میں الجھانا چاہتے ہو۔
> اور میں کیوں لشکر بناؤں؟ میری صوبائی حکومت، میرے اختلاف بھی ہوں، وہ آپ سے کہتی ہے کہ ہم خود پولیس کو استعمال کر کے جنگ لڑ سکتے ہیں، فوج سائیڈ پر ہو جائے، تو آپ تو صوبائی حکومت کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور آپ عام آدمی کو کہہ رہے ہیں کہ لشکر بناؤ۔
> پہلے صوبائی حکومت کی آفر تو قبول کرو، اور نتیجہ یہ نکلا ہے، شاید بلوچستان کے اور سندھ کے دوستوں کو معلوم نہ ہو، یا پنجاب کے لوگوں کو معلوم نہ ہو، خیبر پختونخوا کے وکلاء جانتے ہیں کہ بنوں میں کتنی دفعہ، چند مہینوں کے اندر اندر، چھاؤنی پر حملے ہوئے، لوگ داخل ہو گئے۔ ابھی حال ہی میں کتنے تھانوں پر انہوں نے قبضے کیے، کئی کئی دن قبضہ رہا، اور بالآخر پولیس نے اعلان کر دیا کہ اب ہم آپریشن میں فوج کے ساتھ نہیں لڑیں گے، ہم خود لڑیں گے، اپنے افسروں کا حکم نہیں مانیں گے۔
> لہٰذا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکی ہے، اور میرے بنوں کا سپاہی اپنے ڈی پی او کا حکم نہیں مانتا، اپنے ڈی آئی جی کا حکم نہیں مانتا، اپنے آئی جی پی کا حکم نہیں مانتا۔
> اس کے بعد لکی مروت، وہاں کی پولیس نے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ ہم اپنی کمیٹی بنائیں گے، ہم اپنے طور پر لڑیں گے، ہم کوئی فوج کا سہارا لینے کے لیے تیار نہیں، نہ ان کے شانہ بشانہ لڑنے کو تیار ہیں، اور وہ نہ ڈی پی او کی مانتے ہیں، نہ ڈی آئی جی کی مانتے ہیں، نہ آئی جی کی مانتے ہیں۔
> اور ابھی چار دن ہوئے ہیں، چار دن ہوئے ہیں، ٹانک میں پولیس ایک مسجد میں جمع ہوئی، ڈی پی او کو بھی ساتھ لائے، اور سب نے قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ ہم فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑیں گے، اور اگر ہمارا سپاہی شہید ہوا تو کسی فوجی کو اپنے جنازے میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔
> یہاں تک حالات پہنچ گئے ہیں، اب کیا رہ گیا؟ ڈیرہ اسماعیل خان رہ گیا، کرک رہ گیا، پھر کوہاٹ رہ گیا۔ اب اس حالت تک ملک کو کس نے پہنچایا ہے؟
> یہ فضل الرحمٰن نے پہنچایا ہے؟ تمہارے اپنے فورسز تم پر اعتماد نہیں کر رہے، تمہاری پالیسی سے مایوس ہو چکے ہیں، تو کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکو نا۔
> اب تم فرشتے تو نہیں ہو کہ معصوم ہو، تم غلطی نہیں کرتے۔ لیکن میرے مضمون کو سمجھو، میرے مضمون کو پڑھو، میرے لفافے کو نہ دیکھ۔ واہ واہ واہ واہ!
> میں کیا کہنا چاہتا ہوں، اول سے لے کر آخر تک قوم کو میری تقریر سناؤ۔ اس میں توہین کی کون سی بات ہے؟ بے توقیری کی کون سی بات ہے؟
> ہاں، آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ کار کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ اختیار کا میں نے احساس دلایا ہے کہ اپنے حدود میں رہو۔
> تمہاری ساری توانائیاں پاکستان کے اوپر اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے میں صرف ہو رہی ہیں، اور آج بھی جو تم نے شہداء کا مسئلہ اٹھایا ہے، تم اپنے ملک میں سیاسی تسلط اور سیاسی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔
> اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کے پیچھے چھپتے ہو۔ ہم آپ سے کوئی جنگ نہیں لڑ رہے، ہم آپ کی پالیسی سے اختلاف کر رہے ہیں۔
> میرے دلائل کا جواب دلیل سے دیجیے۔ کہتے ہیں: "معافی مانگیں، معافی مانگیں۔" معافی میں نے مانگنی ہے یا تُو نے مانگنی ہے؟ غلطی تُو نے کی ہے۔
جی، ابھی اس تقریر کا مزید حصہ باقی ہے۔
> ہم تو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرتے ہیں: "اسألوا الله العافية، ولا تتمنوا لقاء العدو." اللہ سے عافیت مانگا کرو، دشمن کا سامنا کرنے کی تمنا نہ کیا کرو، لیکن اگر مقدر ہے اور آمنا سامنا ہو گیا، پھر ڈٹ جاؤ، یہ اصول ہے۔
> میں اپنی فوج کو تو دشمن نہیں کہہ رہا، میں اپنی فوج کو پاکستان کی فوج کہتا ہوں، اور جب میں پاکستانی ہوں تو فوج بھی پاکستانی، تو فوج میری ہو گئی۔ میں اپنی فوج کو اپنی فوج سمجھتا ہوں، لیکن جب آپ اپنے دائرۂ کار و اختیار سے تجاوز کریں گے، ملک کی سیاست پر قابض ہوں گے، الیکشنوں میں دھاندلیاں کرو گے، اور دھاندلیاں بھی تو اس طرح ہوتی ہیں، نہ کہ بکسے تبدیل ہو جائیں، نمبرز تبدیل ہو جائیں، لیکن اگر میرے حلقے کے بکسوں کو دریا میں پھینک دیا جائے، اس کو کون گنے گا؟ کلاسے کون گنے گا؟
> تو میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے۔ میری باتوں کو برا مت مانو، میری باتوں سے سبق سیکھو۔
> اور مجھے نہیں پتا، اگر خدا نخواستہ آپ کوئی مہم جوئی میں مصروف ہیں، کوئی ایسے کام کرنے میں مصروف ہیں جو آپ اپنی قوم سے چھپانا چاہتے ہیں، اور میرے ساتھ لڑائی چھیڑ کر اس شور شرابے میں آپ اپنا کام نکالنا چاہتے ہیں، تو اس پر میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔
> لیکن اس پہلو کو نظر انداز تو نہ کرو۔ ہمارے ساتھ لڑائی چھیڑ کر شور و غبار پیدا کرتے ہو، اور ساری دنیا کی توجہ اس طرف ہو جاتی ہے، اور اس بیچ میں پتہ نہیں کون سی مہم آپ پوری کر رہے ہوں، کیا کرنا چاہتے ہو؟
> شہیدوں کے نام پر، سیاسی مفادات کے لیے، اپنی مہم جوئی کے لیے، اپنے شہداء کا سہارا لیتے ہو۔ تم شہداء کی توہین کے مرتکب ہو۔ تمہیں اپنے شہداء سے بھی معافی مانگنی ہوگی، تمہیں میرے شہداء سے بھی معافی مانگنی ہوگی۔
> عوام مر رہے ہیں۔ یہ کس مدرسے سے مر رہے ہیں؟ آئے روز کبھی کسی گاؤں میں، کبھی کسی گاؤں میں، کبھی کہاں پر، کبھی کہاں پر، کبھی سڑکوں میں، کبھی گلیوں میں، کبھی صحراؤں میں، کبھی میدانوں میں گولیاں چل رہی ہیں، عوام مر رہے ہیں۔
> ان عوام کی کوئی بات ہے؟ ان کی کوئی قدر و قیمت ہے؟ ان کے خون کی کوئی قدر و قیمت نہیں؟ اس لیے کہ وہ ان قربانیوں کا کوئی تنخواہ نہیں لے رہے۔
> اگر شہید کی شہادت اور قربانی کو ایک محاورے، جملے کے ساتھ عام محاورہ ہے، تم جوڑ کر اس کو شہیدوں کی توہین سمجھتے ہو، تو پھر "دفاع مقدس ہے، دفاع مقدس ہے"، پھر ہمارے بجٹ سے دفاعی بجٹ کا نام تو نکال لو، کیونکہ دفاع جیسے مقدس چیز کو بجٹ کی طرف منسوب کرنا، یہ تو قوتِ دفاع کی توہین ہو جائے گی۔ اس کا نام رکھ لو "مقدس بجٹ"۔
> تو اس قسم کی بچوں والی باتیں کرنا، اور پتہ نہیں کن کن لوگوں سے میرے خلاف بیان دلوائے۔ جب بولتے تھے تو لگتا تھا چہرہ بھی اس کا مصنوعی بنا ہوا ہے، زبان بھی اس کی مصنوعی ہے، ضمیر اور زبان کے درمیان مطابقت نہیں ہے۔
> اور اس طرح کے پروپیگنڈا کر کے آپ ایک سنجیدہ سیاست کو ملک میں ذلیل کر رہے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ سنجیدہ سیاست کی ہے، ہم نے ملک کے لیے بہت کچھ کیا ہے، ہم نے اس ملک کو مشکلات سے نکالا ہے۔
> ہم نے اس ملک کے نوجوان، جو بندوق کی طرف جا رہے تھے، ان کو روکا ہے، مدارس کو روکا ہے، مساجد کو روکا ہے، جوانوں کو روکا ہے، اور میں چھبیس سال سے اس محنت میں ہوں کہ میرا نوجوان مثبت کردار کی طرف جائے۔
> آپ نے ان کے سامنے میری کیا حیثیت کر دی؟ کل جب میں انہیں کہوں گا کہ آپ لوگ ایسا نہ کریں، ایسا نہ کریں، ایسا نہ کریں، تو وہ مجھے کہیں گے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا؟
> میں برداشت تو کر لیتا ہوں، چلو، میں نے برداشت کر لیا، لیکن اگر آپ شہداء کا سہارا لے کر یہ توقع رکھتے ہیں مجھ سے کہ میں اپنا مؤقف تبدیل کر لوں گا، جب تک تم سیدھے نہیں ہو گے، میرا مؤقف تبدیل نہیں ہو سکتا، ان شاء اللہ۔
> ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ تیری بصیرت کو سلام ہے، فضل الرحمٰن! تیری قیادت کو سلام ہے۔ نعرۂ تکبیر! اللہ اکبر!
> یہ دوڑی پگڑی کس کی؟ فضل الرحمٰن کی۔ یہ داڑھی پگڑی کس کی؟ یہ کالے کوٹ کس کے؟ یہ وکیل کس کے؟ یہ پاکستان کس کا؟ نعرۂ تکبیر!
> کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے؟ سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے؟
> کیا بات ہے، کیا بات ہے! کیا کہنے! تو آج اتنا ہی کافی ہے۔
> اور ان شاء اللہ العزیز، پندرہ اکتوبر کو ملتان میں مفتی محمود کانفرنس ہو گی، اور اگست کے مہینے میں چاروں صوبوں کے اندر ورکرز کنونشن ہوں گے، جس میں وکلاء بھی شریک ہوں گے اور باقی لوگ بھی شریک ہوں گے۔
> اسی طریقے سے ہم نے نومبر میں پنجاب میں جلسے کا اعلان کیا ہے، اور ستمبر میں بھی پنجاب میں جلسہ کریں گے۔ اب پنجاب میں ایک جلسہ قصور کا نہیں ہوا، پنجاب میں اب جلسے ہوں گے، اور ان شاء اللہ ہم عوام کی تائید حاصل کریں گے۔
ختم شد