Shobi Fun Club

Shobi Fun Club Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Shobi Fun Club, Sports Event, Muza Tibbi Waddan, Lodhran.

07/09/2020
سب مسلمانوں کو رمضان کاچاند مبارک ہو.
24/04/2020

سب مسلمانوں کو رمضان کاچاند مبارک ہو.

23/04/2020



1. *√ =* Message Sent

2. *√√ =* Message Delivered

3. *2 Blue √√ =* Message Read

4. *3 Blue √√√ =* Government has taken a Note

5. *2 Blue 1 Red √√√ =* Government can take action against you

6. *1 Blue 2 Red √√√ =* Government is screening your data

7. *3 Red √√√ =* Government has initiated action & you'll receive summons from court

*Be a responsible citizen & share with your friends*

🙏🏽🙏🏽🙏🏽

21/04/2020

Solute to National Hero ✋💞        (21 اپریل ، علامہ اقبال کے یومِ وفات کے موقع پر)                                      ...
21/04/2020

Solute to National Hero ✋💞

(21 اپریل ، علامہ اقبال کے یومِ وفات کے موقع پر)


اقبال سے اظہار عقیدت کا آسان اور سیدھا راستہ وہی ہے جو ہم نے پہلے سے ہی اختیار کر رکھا ہے، یعنی اکیس اپریل اور نو نومبر کے روز مزارِ اقبال پر حاضری دینا، پھولوں کی چادر چڑھانا اور ہاتھ اُٹھا کر فاتحہ پڑھنا ۔مزارِ اقبال پر ایسی عقیدت سے حاضری دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہر سال خود کو تسلی دیتے ہیں کہ اس احاطہ میں شاعرِ مشرق دفن ہےجس نے مسلمانوں کی ایک الگ ریاست کا خواب دیکھا تھا جو بفضلِ تعالٰی ہم حاصل کر چکے ہیں. اقبال کی شاعری کے حوالے سے ہماری سماجی صورتِحال ایسی قابلِ رشک ہے کہ ہم نے کلامِ اقبال سے چند اشعار چُن کر ایوانوں ، درباروں، عوامی ہوٹلوں، پارکوں اور درس گاہوں کی دیواروں پر رقم کر دیئے ہیں ۔ چنانچہ اب ہم باہر نکلیں تو عوامی بسوں، ٹرکوں اور آٹوز پر عوامی زبان کے شعروں کے ساتھ علامہ کے چند زبانِ زد عام اشعار

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
یا
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

پڑھنے کو ملتے ہیں۔ موت کے منہ کے انتہائی قریب چلنے والی ویگنوں کو آگے پیچھے، دائیں بائیں سے دیکھیں
تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
ایسے عمل کی تحریک دینے والے فکر انگیز شعر درج ہوں گے
کوئی ٹیکسی، کوئی ٹرک، کوئی آٹو رکشہ دیکھ لیں

نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

ایسے بلیغ اشعار درج ہوں گے ۔ یہی نہیں، ادب تو دور کی بات ہے آپ کیمسٹری یا میڈیکل کے کسی طالبعلم سے کہیں کہ اردو کا کوئی شعر سنائے، تو وہ اور کچھ سنائے نہ سنائے اقبال کے ایک دو شعر ضرور پڑھ دے گا ۔ اقبال کی حالتِ فکر میں ڈوبی ہوئی ایک عدد تصویر بھی ہمارے ہاتھ لگی ہوئی ہے جسے ہم انتہائی عقیدت کے ساتھ دفتروں، ایوانوں اور سفارت خانوں کی دیواروں پر آویزاں کرتے ہیں ۔ گویا ہم نے اول تا آخر اقبال کے اشعار چُن چُن کر نوجوان نسل کو یاد کروا دیئے ہیں اس طرح اقبال کو ہم نے اپنے حافظوں میں اچھی طرح قید کر لیا ہے.

ہم اہلِ مشرق کو سوچنا چاہئے کہ اپنی صدی کے سب سے بڑے اور اہم شاعر اور مفکر کا مقام و مرتبہ کیا یہی تھا کہ ہم اس کے اشعار فریم کروا کر دیواروں پر آویزاں کر دیں اور اس کے کلام کے عملی پہلوؤں کو پسِ پشت ڈال دیں ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں شاعر اور ادیب بھوک کی علامت ہیں اور فکر و فاقہ کے حوالے سے ہم نے ان پر کئی لطائف بھی گھڑ رکھے ہیں جو نجی محفلوں میں ہنسنے ہنسانے کے لئے سنے اور سنائے جاتے ہیں،جبکہ فنونِ لطیفہ کو ہم لطیفہ سنانے کا فن سمجھتے ہیں ۔ دوسرا ہم اپنا ہر کام اللہ تعالٰی اور حکومتِ وقت پر چھوڑ دیتے ہیں، اُدھر حکومتِ وقت بھی کیونکہ خطہء اقبال سے وابستہ ہوتی ہے چنانچہ وہ اپنے کام رعایا پر چھوڑ دیتی ہے جبکہ ربِ کائنات اپنی ذات پر توکل سے پہلے اونٹ کی ٹانگوں میں رسی باندھنے کا درس دیتا ہے، یعنی عملاً کچھ کرنے کا اشارہ ہے۔ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ اقبال کا سارا کلام عمل اور خود داری کا پیغام دیتا ہے. اقبال کا کلام فردِ واحد پر انحصار کرتا ہے اس کا مرد، مردِ آہن ہے ۔ کون نہیں جانتا کہ اقبال فردِ واحد سے مخاطب ہو کر اجتماعیت کی طرف جاتا ہے ۔ہم نے ٹرکوں، بسوں ہر اقبال کے جتنے اشعار بھی لکھوا رکھے ہیں یا کلیاتِ اقبال ہی اٹھا کر دیکھ لیں اُن میں بیشتر، اقبال فردِ واحد ہی سے مخاطب ہے، صیغہ واحد ہی میں کلام کرتا یے
تو شاہین یے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
نہ تو زمیں کے لئے ہے نہ آسماں کے لئے
تو شاہین ہے پرواز ہے کام ترا
کی محمد سے وفا تو نے ، وغیرہ وغیرہ

فردِ واحد جب اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے تب اجتماعیت کی بات ہوتی ہے لیکن کیا کیجئے ہم ایسے سہل پسند واقع ہوئے ہیں کہ عمل کی بات پر اللہ کی نہیں مانتے، اقبال کی کیسے مانیں گے؟ مہذب معاشروں میں اقبال ایسے مفکروں کا مزار نہیں بنایا جاتا بلکہ ہمیشہ انہیں اپنی تہذیبی زندگی کے درمیان زندہ رکھا جاتا ہے ۔ یہ وقت اقبال کو شاعری کے حوالے سے زندہ رکھنے یا اقبال کو ازسرِ نو دریافت کرنے سے زیادہ اقبال کے فکری پہلوؤں سے استفادہ کرنے کا ہے اس لئے کہ اقبال کے تمام فکری پہلوؤں کو اردو، فارسی، انگریزی، جرمن اور کئی دیگر زبانوں کے مفکروں نے بڑی وضاحت کے ساتھ پیش کر دیا ہے جو اقبال کو شاعر کی حیثیت سے یاد رکھنے کے لئے بہت کافی ہے ہمارا کام اقبال کے افکار سے استفادہ کرتے ہوئے معاشرتی تعمیر کا یے کیونکہ اقبال مشرقی تہذیب کا تھنک ٹینک ہے وہ سائنس کا آئن سٹائن اور صورت گروں کا پکاسو ہے وہ ایک ایسا عظیم مفکر تھا جن کی خدمات مستعار لینے کے لئے آج مغربی معاشرے ان جیسے عظیم دماغوں کو سرمائے کی غیر مشروط پیشکش کرتے ہیں۔ وہ سماجی راستے تعمیر کرنے پر مامور ہوتے ہیں قومیں ان راستوں پر چلتی ہیں اور فلاح پاتی ہیں ۔ اقبال ہمیں مفت میں ملا، ہم نے اُس کے ساتھ سلوک بھی ویسا ہی کیا۔ بیداری اور خود داری کا درس دینے والے اس عظیم مفکر کے یومِ وفات یا ولادت کو ہی لے لیجئے، ہم اس روز صبح دیر سے بیدار ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہماری چھٹی کا دن ہوتا ہے ۔اقبال کہتا ہے نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر، لیکن ہم قصر کی طرف بھاگتے ہیں اقبال کہتا ہے کہ، تیرے آگے آسماں اور بھی ہیں ، لیکن ہم روز صبح بندھے ٹکے راستوں سے گزرتے ہیں راستے کی رکاوٹوں، گندگیوں اور معاشرتی نا ہمواریوں، جبر اور ظلم سے درگزر کرتے ہوئے شام کو گھر لوٹ جاتے ہیں، سری پائے کھاتے ہیں، ٹھنڈی لسی پیتے ہیں، سیاسی مباحثے سنتے، سناتے ہیں اور بانگِ درا پڑھ کر سو جاتے ہیں ۔ ہم صاحبِ مشرق شرمندہ کیوں نہیں ہوتے، ہم مشرق کی روایتوں کے امین ہیں، عظیم مشرق جہاں سے ہر صبح سورج طلوع ہو کر پوری دنیا کو روشنی کی نوید سناتا ہے۔ہم سے عمل نہیں ہوتا ہم اپنی سماجی صورتِ حال بہتر کرنے کے لئے کوئی عملی کردار ادا نہیں کرتے اور اپنے تمام معاملات اللہ تعالٰی اور حکمرانوں پر چھوڑتے ہیں ۔ ہم بھوکے ننگے رہ گئے ہیں، کیونکہ ہمارے شاعر ادیب بھوک کی علامت ہیں اور ہم نجی محفلوں میں اُن پر ہنستے ہیں ۔ فکرِ اقبال سے استفادہ کے پس منظر میں تو سماجی حیثیت سے ہمیں بہت آگے ہونا چاہئے تھا، اس لئے کہ ہمارا کیمسٹری اور میڈیکل کا طالبعلم ہی نہیں بلکہ ہمارا ٹرک، بس، ویگن اور رکشہ ڈرائیور تک جانتا ہے کہ
وہ شاہین ہے
اس کے آگے آسمان اور بھی ہیں
وہ محمد سے وفا کرے گا تو دونوں جہاں اس کے ہوں گے
اور وہ سمجھتا ہے کہ جس رزق سے پرواز میں کوتاہی آتی ہو اس رزق سے موت اچھی ہے ۔ لیکن ہم سوچتے نہیں، سنجیدہ نہیں ہوتے اور ہم عمل نہیں کرتے ۔
تاہم ہمیں اقبال کے حوالے سے شرمندہ ہونے کی کچھ ایسی ضرورت بھی نہیں، اس لئے کہ اقبال سے اظہارِ عقیدت کا آسان اور سیدھا راستہ ہم نے پہلے ہی سے دریافت کر رکھا ہے، یعنی اکیس اپریل اور نو نومبر کو مزارِ اقبال پر حاضری دینا، پھولوں کی چادر چڑھانا اور ہاتھ اٹھا کر فاتحہ پڑھنا ۔

( نومبر ٢٠١٦ء مقامی تنظیم " کویت پاکستان فرینڈز شپ ایسوسی ایشن" کے زیرِ اہتمام شاعرِ مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کے یومِ ولادت کی تقریب میں پڑھا گیا )

‏حکومت کا لاک ڈاون میں 30 اپریل تک توسیع کا فیصلہ۔ تعمیراتی شعبے سے منسلک اور ہنر سے متعلق تجارت اور کاروبار بھی کھولنے ...
14/04/2020

‏حکومت کا لاک ڈاون میں 30 اپریل تک توسیع کا فیصلہ۔ تعمیراتی شعبے سے منسلک اور ہنر سے متعلق تجارت اور کاروبار بھی کھولنے کا فیصلہ، درزی، پلمبر، الیکٹریشن، مکینک اور حجام کے کاموں پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ ٹرانسپورٹ، فضائی سفر، مارکیٹس، شاپنگ مالز، شادی ہالز، پبلک مقامات بند رہیں گے

عام طور پر بھیک مانگنا ہمارے معاشرے میں انتہائی معیوب تصور کیا جاتا ہے اور اس کے لیے ہمارے پاس ہمارے نبی کی حدیث کا حوال...
14/04/2020

عام طور پر بھیک مانگنا ہمارے معاشرے میں انتہائی معیوب تصور کیا جاتا ہے اور اس کے لیے ہمارے پاس ہمارے نبی کی حدیث کا حوالہ بھی موجود ہے جس میں ان کا فرمان ہے کہ دینے والا ہاتھ مانگنے والے ہاتھ سے بہتر ہے-

مگر بعض اوقات انسان کو حالات ایسے نہج پر پہنچا دیتے ہیں جب کہ اس کے پاس مانگنے کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں رہتا مگر بعض لوگ ہمارے معاشرے میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے بھیک مانگنے کو اپنا پیشہ بنا رکھا ہے اور ان کی آمدنی کسی بھی عام محنت کش سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔

ان کی دکان سال کے بارہ مہینوں میں جاری رہتی ہے اور کرونا جیسے حالات میں جب پوری دنیا کے کاروبار بند ہیں یہ وہ واحد پیشہ ہے جس کی کمائی ان دنوں زیادہ سے زیادہ ہو گئی ہے ایسا ہی ایک انسان شوکت بھکاری بھی ہے جس کا تعلق ملتان سے ہے-

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈيو میں اس نے اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان کا استعمال کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا نام شوکت بھکاری ہے اور اس کا تعلق شاہ جمال سے ہے اور اس کا پیشہ بھیک مانگنا ہے-

دسویں کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ ضلع مظفر گڑہ کے ایم پی اے کے پاس نوکری مانگنے کے لیے گیا جس نے اسے نوکری دینے سے منع کر دیا ان کا انکار سن کر شوکت بھکاری نے بھیک مانگنے کا فیصلہ کیا اور وہ مظفر گڑھ کی سڑکوں کا شہزادہ بن گیا-




اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ دن بھر میں روز کا ایک ہزار روپے کماتا ہے جس سے اس کو مہینے کے تیس ہزار کی آمدنی ہوتی ہے جو کہ اس کے گزارے کے لیے کافی ہے اور ایک بڑی نوکری کے برابر آمدنی کا باعث ہے جو کہ سال کے تین لاکھ پینسٹھ ہزار بنتے ہیں- اور اس کمائی میں اس کو کسی قسم کا پٹرول ڈیزل وغیرہ کا خرچہ بھی نہیں کرنا پڑتا ہے- علاقے کے تمام ہوٹلوں سے اسے مفت کا کھانا مل جاتا ہے-

اس کا کہنا تھا کہ وہ بھیک مانگتے ہوئے لوگوں سے صرف ایک روپے کا سوال کرتا ہے اس سے وہ لوگوں کی اس نفسیات سے بھی کھیلتا ہے کہ آج کل کے دور میں ایک روپے کا سکہ تو کسی کی بھی جیب میں نہیں ہوتا اس لیے لوگ اس کے تقاضے پر اسے دس بیس روپے ہی دے دیتے ہیں اور اگر کوئی اس کو کہتا ہے کہ اس کے پاس ایک روپیہ نہیں ہے تو وہ ان کو کہتا ہے کہ دس روپے دے دو اور نو روپے مجھ سے کھلے واپس لے لو-


شوکت بھکاری کا یہ بھی بتانا تھا کہ وہ یہ ساری رقم حبیب بنک لمیٹڈ کی ملتان کی برانچ میں جمع کروا دیتا ہے اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ہر روز کا ایک ہزار روپے بنک میں جمع کرواتا ہے اور اب تک اٹھارہ لاکھ دس ہزار تین سو سنتالیس روپے بنک میں جمع کروا چکا ہے- اس کے علاوہ اس نے 84 ہزار سالانہ کی اسٹیٹ لائف پالیسی بھی خرید رکھی ہے جس کے وہ چھ سال سے پیسے جمع کروا رہا ہے اور بیس سال تک رقم جمع کروانے پر اسے کئی گنا زیادہ رقم ملے گی-

شوکت بھکاری کا نام اس وقت مزید شہرت پا گیا جب اس نے ڈیم فنڈ میں دس ہزار کی رقم جمع کروانے کا اعلان کیا اور نیب نے اس کی انکوائری شروع کر دی ملتان کی سڑکوں پر روانی سے انگریزی بول کر بھیک مانگنے والے بھکاری شوکت کی ويڈیوز سوشل میڈيا پر بہت ذوق و شوق سے دیکھی جاتی ہیں-

امریکی میڈیا بھی بھارتی مسلمانوں پر مظالم اور نفرت انگیز واقعات کے خلاف بول اٹھا۔امریکی روزنامے کے مطابق کورونا وائرس کی...
14/04/2020

امریکی میڈیا بھی بھارتی مسلمانوں پر مظالم اور نفرت انگیز واقعات کے خلاف بول اٹھا۔

امریکی روزنامے کے مطابق کورونا وائرس کی آڑ میں بھارت میں مذہبی منافرت کو ہوا دی جا رہی ہے۔

امریکی اخبار نے لکھا کہ اتر پردیش میں مسلمان سبزی فروشوں کو شکایت ہے کہ آر ایس ایس کے انتہا پسند لوگوں کو ان سے خریداری نہیں کرنے دیتے بلکہ افواہ پھیلاتے ہیں کہ مسلمان کورونا وائرس پھیلاتے ہیں۔

نئی دہلی میں دودھ بیچنے والے مسلمان دکاندار محمد حیدر کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو ہر طرف سے خوف نے گھیر رکھا ہے، ہندو انتہا پسند معمولی باتوں کا بہانہ بنا کر مسلمانوں کے ساتھ مار پیٹ کرتے ہیں۔

بار بار کورونا کو مسلمانوں سے جوڑنے پر سماجی کارکن کویتا کرشنان نے بھارتی میڈیا اینکروں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ کہتی ہیں کہ تاریخ کے صفحوں میں ان لوگوں کو نفرت پھیلانے والا لکھا جائے گا۔ کورونا کو مذہب سے جوڑنا شرمناک ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں بھی بھارتی اتنہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا سلسلہ جاری ہے۔ دبئی کی ایک کمپنی نے اپنے بھارتی چیف اکاؤنٹنٹ کو مسلم مخالف پوسٹ لگانے پر نوکری سے فارغ کر دیا۔ ایک ہفتے کے دوران بھارتیوں کو نوکری سے نکالے جانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

ریاض: امام کعبہ نے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو آب زم زم دینے کی تجویز دی ہے۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق امام کعبہ ...
14/04/2020

ریاض: امام کعبہ نے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو آب زم زم دینے کی تجویز دی ہے۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق امام کعبہ شیخ عبدالرحمان السدیس نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کو نفسیاتی اور جذباتی امداد کے لیے آب زم زم فراہم کیا جائے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ ایسے تمام اسپتالوں میں زم زم کا پانی فراہم کیا جائے جہاں کورونا وائرس کے مریض زیرعلاج ہیں اس سے متاثرہ افراد کو صحت یاب ہونے میں مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس اب تک لاعلاج ہے، دنیا بھر کے سائنسدان اس کے علاج کے لیے ویکسین تیار کرنے میں سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔

کووڈ-19 پر سب سے زیادہ تحقیق کرنے والی امریکی جونز ہاپکنز ہونیورسٹی کا کہنا ہے کہ فی الاحال یہ وائرس لاعلاج ہے، امکان ہے کہ اس کی ویکسین آئندہ سال یعنی 2021 تک تیار کر لی جائے گی۔

خیال رہے کہ عالمگیر وبا سے دنیا کے 200 سے زائد ممالک متاثر ہیں جس میں چین، امریکا، یورپی ممالک سمیت سعودی عرب اور پاکستان بھی شامل ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار ہونے والے افراد کو رہا کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں ج...
14/04/2020

وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار ہونے والے افراد کو رہا کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں جس کے بعد وزارت داخلہ کے ذریعے گرفتار افراد کی رہائی کے لیے ہدایات صوبوں کو دی جائیں گی۔ اس وقت کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں لاک ڈاﺅن کر دیا گیا ہے جس کے بعد دفعہ 144 نافذ کر کے لوگوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں اور باہراکھٹے ہونے سے بھی گریز کریں۔اس سلسلے میں لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری ملک بھر میں تعینات کردی گئی ہے جس کے بعد کوشش کی جا رہی ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے کم ملیں اور کورونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ پوری دنیا کی طرح کورونا وائرس نے اس وقت پاکستان میں بھی اپنے قدم جما لئے ہیں جس کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی تباہی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔حکومت کی جانب سے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ کورونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے اور اس حوالے سے ہر ممکن اقدام کئے جا رہے ہیں۔ ابھی تک پاکستان میں متاثرہ افراد کی تعداد 5716 ہو گئی ہے جبکہ 96 افراد کورونا وائرس کا شکا ر ہو کر جاں بحق ہو گئے ہیں۔آج اب تک ملک بھر سے کورونا وائرس کے مزید 173 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔آج اب تک پنجاب سے 170 اور ا?زاد کشمیر سے 3 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ملک میں ہونے والی 96 ہلاکتوں میں سے سب سے زیادہ خیبرپختونخوا میں 35، سندھ 31 اور پنجاب میں 24 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں 2، گلگت 3 اور اسلام آباد میں ایک ہلاکت ہوچکی ہے۔ اسی نقصان کو روکنے کے لئے ملک بھر میں دفعہ 144 اور لاک ڈاو¿ن کر دیا گیا ہے جس کے بعد خلاف ورزی کرنے والے افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن اب وزیراعظم عمران خان نے تمام گرفتار لوگوں کی رہائی کی ہدایات جاری کر دی ہیں.

Address

Muza Tibbi Waddan
Lodhran

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shobi Fun Club posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category