15/01/2025
خوشحال خان خٹک یونیورسٹی میں میرٹ کا قتلِ عام
خوشحال خان خٹک یونیورسٹی، کرک، میں انتخابی عمل میرٹ کی پامالی اور ناانصافی کی بدترین مثال بن چکا ہے۔ وائس چانسلر نصیر، نگران رجسٹرار غنی، اور ڈپٹی رجسٹرار کے اس عمل پر بحیثیت سابق طالب علم تنقید کرنا اپنا حق سمجھتا ہوں اور یہ کہنا بےجا نا ہوگا کہ انہوں نے بھرتیوں کے عمل کو مکمل طور پر غیر شفاف اور متنازعہ بنا دیا ہے۔
میڈیا ڈیپارٹمنٹ میں ناانصافی کی مثال
میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز کے عہدے کے لیے انٹرویو میں ڈاکٹر نسیم انور جیسے قابل امیدوار، جنہوں نے بہترین انٹرویو دیا، کو جان بوجھ کر فیل کر دیا گیا، جبکہ انٹرویو میں صرف حاضری دینے والے امیدواروں کو پاسنگ مارکس دے دیے جاتے ہیں۔ یہ عمل انتظامیہ کے بدنیتی پر مبنی فیصلوں کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
منیجمنٹ، جیالوجی، اور کمپیوٹر سائنس میں من پسند افراد کی بھرتی
منیجمنٹ سائنسز، جیالوجی، کمپیوٹر سائنس، اور میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے انٹرویوز میں مخصوص اور من پسند افراد کو بلا کر میرٹ کا قتل عام کیا گیا۔ ان بے ضابطگیوں کا عالم یہ تھا کہ انٹرویو سے پہلے امیدوار اپنے سبجیکٹ اسپیشلسٹس کے ساتھ گپ شپ کرتے نظر آئے، جس سے نتائج کے شفافیت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے
عدالتی احکامات کی خلاف ورزی
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس بھرتی کے عمل پر سیشن کورٹ کرک اور ہائی کورٹ پشاور بنوں بینچ نے متعدد سٹے آرڈرز جاری کیے تھے، لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے ان احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے بھرتی کا عمل اس وقت جاری رکھا جب پشاور ہائی کورٹ کی چھٹیاں تھیں۔ یہ اقدام واضح طور پر انصاف اور قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور صرف ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے کیا گیا۔
نگران رجسٹرار کی مشکوک حیثیت
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ نگران رجسٹرار غنی خود بھی ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے کے امیدوار تھے، اور اس پورے بھرتی کے عمل کو انہوں نے ہی ڈیزائن کیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پورا عمل شفافیت کے بجائے جانبداری پر مبنی تھا۔
نگران وائس چانسلر کی حدود سے تجاوز
اب ذرا ایکسکیوز می!
یہاں ایک اور مزے کی بات سنیں: خوشحال یونیورسٹی کے وائس چانسلر نصیرالدین بھی نگران وائس چانسلر ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ نگران وائس چانسلر کا کام صرف یونیورسٹی کے روزمرہ معاملات چلانا ہے۔ کسی بھی قسم کی بھرتی، پوسٹنگ، یا ٹرانسفر ان کے اختیار میں نہیں۔ لیکن یہاں تو “راجہ بازار” لگا ہوا ہے! ہر طرف اپنی پسندیدہ بھرتیاں، پوسٹنگز، اور ٹرانسفرز کی دھڑا دھڑ “خرید و فروخت” دن دہاڑے جاری ہے۔ کیا خوب چلن ہے!
مطالبات
ہم ہائر ایجوکیشن منسٹر، گورنر، اور وزیر اعلیٰ سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ:
1. یونیورسٹی کے بھرتی کے عمل کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔
2. ان بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کو فوری طور پر عہدوں سے برطرف کیا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
3. آئندہ بھرتی کے عمل کو شفاف، غیر جانبدار، اور میرٹ پر مبنی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔
یونیورسٹی کی ساکھ کو بچائیں
خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کسی کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کا امین ادارہ ہے۔ میرٹ اور انصاف کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ اس ادارے کی ساکھ بحال ہو اور طلبہ کا اعتماد قائم اور سب سے فضول بات یہ ھے دوسرے ڈیپارٹمنٹ کا استاد تیسرے کا ایچ او ڈی بنا دیا گیا ھے۔۔۔
خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک۔
Stand with Dr-Naseem A Khattak