میں چاہتا ہوں مجھے طاقچوں میں رکھا جائے
میں چاہتا ہوں جلوں اور روشنی نکلے
میں چاہتا ہوں تجھے مجھ سے عشق ہو جائے
میں چاہتا ہوں کہ صحرا سے جل پری نکلے
میں چاہتا ہوں مجھے کوئی درد دان کرے
شدید اتنا کہ آنسو ہنسی خوشی نکلے
04/11/2017
09/03/2017
اپنے ارد گرد چلنے پھرنے والی لڑکیوں کو دیکھتی ہوں، تو کئی بار بڑی حیرانی ہوتی ہے۔ خواتین کتنی ہی دکھی ہوں، کتنے ہی کرب سے گزر رہی ہوں، اپنے سارے کام روٹین کے مطابق کرتی رہیں گی۔ شوہر کے حقوق بھی پورے کریں گی، بچوں کے سارے کام بھی، سسرال کو خوش رکھنے کی حتی الامکان کوشش بھی، ساتھ میں موقع ملے تو دوستوں سے سلام دعا بھی۔ جسمانی طور پر تکلیف میں ہوں یا دماغ کو کوئی الجھن پریشان کئے دیتی ہو، آپکو پتہ بھی نہیں چلنے دیں گی۔
اماں ابا کے پیار میں پلی یہ بیٹیاں ایسے ایسوں کے حوالے ہو جاتی ہیں جو انکی worth نہ پہچان سکے، انکی قدر نہ کر سکے۔ موتیوں کو مٹی میں رول دیا لیکن پھر بھی دیکھیں، کیسےشان سے زندگی گزارتی ہیں کہ جس کو خود منہ سے بول کے نہ بتائیں تو ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے کو بھی شک نہ پڑے۔
کون کہتا ہے ہم صنفِ نازک ہیں؟ ریشم میں لپٹا ہوا فولاد ہیں ہم!
Be the first to know and let us send you an email when TeSpi event Organizer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.