Iqbalistan Movement

  • Home
  • Iqbalistan Movement

Iqbalistan Movement Learn Allama Iqbal's message, Love, Khudi, Quran, Rasul Allah sallal laho allihi wassallam seerat.

30/11/2024

اے ز خود پوشیدہ خود را بازیاب
در مسلمانی حرام است ایں حجاب

تو اپنے آپ سے پوشیدہ ہے، اپنے آپ کو دوبارہ پا لے
مسلمانی میں ایسا پردہ حرام ہے۔

رمزِ دینِ مصطفیٰ دانی کہ چیست
فاش دیدن خویش را شاہنشی است

کیا تو جانتا ہے کہ دینِ مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا راز کیا ہے؟
یہ کہ اپنے آپ کو برملا دیکھنا بادشاہی ہے

چیست دین ؟ دریافتن اسرارِ خویش
زندگی مرگ است بے دیدارِ خویش

دین کیا ہے؟ اپنی شخصیت کے اسرار دریافت کرنا
اپنے دیدار کے بغیر زندگی موت ہے۔

آں مسلمانے کہ بیند خویش را
از جہانے برگزیند خویش را

وہ مسلمان جو اپنے آپ کو دیکھ لیتا ہے
وہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ سارے جہان سے برتر ہے۔

از ضمیرِ کائنات آگاہ اوست
تیغِ لا موجود "الا ﷲ" اوست

ایسا مسلمان ہی ضمیر کائنات سے آگاہ ہوتا ہے وہی لاموجود "الااللہ" کی تلوار بنتا ہے

در مکان و لامکاں غوغاے او
نہ سپہر آوارہ در پہناے او

مکان اور لا مکان میں اسی کا غوغا ہے
سارے آسمان (پوری کائنات) اسی کی وسعت میں پھرتے ہیں۔

تا دلش سرّے ز اسرارِ خداست
حیف اگر از خویشتن ناآشناست

چونکہ مسلمان کا قلب اللہ تعالیٰ کے رازوں میں سے ایک راز ہے
اس لیے ایسے مسلمان پر افسوس ہے جو اپنے سے بے خبر ہے۔

بندۂ حق وارثِ پیغمبراں
او نگنجد در جہانِ دیگراں

اللہ تعالیٰ کا بندہ پیغمبروں کا وارث ہے
وہ دوسروں کے جہان میں نہیں سماتا
(وہ اپنا جہان خود پیدا کرتا ہے)

تا جہانے دیگرے پیدا کند
ایں جہانِ کہنہ را برہم زند

چونکہ وہ نیا جہان پیدا کرتا ہے اس لیے پہلے اس پرانے جہان کو درہم برہم کر دیتا ہے۔

زندہ مرد از غیرِ حق دارد فراغ
از خودی اندر وجودِ او چراغ

زندہ انسان غیر اللہ سے فراغت حاصل کر چکا ہے
اس کے وجود کے اندر خودی کا چراغ روشن ہوتا ہے۔

پاے او محکم بہ رزمِ خیر و شر
ذکرِ او شمشیر و فکرِ او سپر

خیر و شر کی جنگ میں وہ ثابت قدم رہتا ہے
ذکر اس کی تلوار ہے اور فکر اس کا ڈھال ہے

پس چہ باید کرد

15/11/2022
08/11/2022

سیاسیاتِ حاضرہ
(دورِ حاضر کا سیاست)

گرچہ دانا حالِ دل با کس نگفت
از تو دردِ خویش نتوانم نہفت

اگرچہ سمجھدار آدمی اپنے دل کی بات کسی کو نہیں بتاتا
مگر میں تجھ سے اپنا درد چھپا نہیں سکتا۔

تا غلامم در غلامی زادہ ام
ز آستانِ کعبہ دور افتادہ ام

چونکہ میں غلام ہوں اور غلامی کے اندر پیدا ہوا ہوں
اس لیے آستانِ کعبہ (اسلام) سے دور جا پڑا ہوں۔

چوں بنامِ مصطفیٰ خوانم درود
از خجالت آب می گردَد وجود

جب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجتا ہوں
تو میرا وجود شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے۔

عشق میگوید کہ اے محکومِ غیر
سینۂ تو از بتاں مانندِ دیر

عشق مجھ سے کہتا ہے کہ اے غیر کے غلام
بتوں کی وجہ سے تیرا سینہ بتخانہ بنا ہوا ہے۔

تا نداری از محمد رنگ و بو
از درودِ خود میالا نامِ او

جب تک آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے (اخلاق عالیہ ) کا رنگ و بو اختیار نہیں کر تا
اپنے درود شریف سے ان کے نام کو آلودہ نہ کر۔

از قیامِ بے حضورِ من مپرس
از سجودِ بے سرورِ من مپرس

میری نماز کے قیام بے حضور کی بات نہ پوچھ اور میری سجود بےسرور کی بات نہ پوچھ۔

جلوۂ حق گرچہ باشد یک نفس
قسمتِ مردانِ آزاد است و بس

اللہ تعالیٰ کا جلوہ خواہ ایک لمحہ کے لیے ہو صرف مرد آزاد کو نصیب ہوتا ہے۔

مردے آزادے چو آید در سجود
در طوافش گرم رو چرخِ کبود

آزاد مرد جب سجدے میں گرتا ہے
تو یہ نیلا آسمان اس کے طواف میں سرگرم ہو جاتا ہے۔

ما غلاماں از جلالش بے خبر
از جمالِ لازوالش بے خبر

ہم غلام (ایسے آزاد مرد کے) جلال سے بے خبر ہیں اور (ایسے آزاد مرد کے) لازوال جمال سے نا آشنا ہیں۔

از غلامے لذّتِ ایماں مجو
گرچہ باشد حافظِ قرآں، مجو

ایسے غلام میں خواہ وہ حافظ ‍ قرآن ہو، ایمان کی لذّت تلاش نہ کر۔

مومن است و پیشۂ او آزریست
دین و عرفانش سراپا کافریست

غلام اگرچہ ایمان کا دعویدار ہے مگر اس کا پیشہ بت گری ہے
اس کا دین اور عرفان سراپا کافری ہے

در بدن داری اگر سوزِ حیات
ہست معراجِ مسلماں در صلوۃ

اگر تو اپنے اندر زندگی کا سوز رکھتا ہے
تَو تُو محسوس کرے گا کہ نماز میں مسلمان کی معراج ہے
( اسے نماز میں معراج کی سی کیقیت حاصل ہوتی ہے)۔

ور نداری خوں گرم اندر بدن
سجدۂ تو نیست جز رسمِ کہن

لیکن اگر تو اپنے بدن میں خون گرم (آتشِ یقین) نہيں رکھتا
تو تیرا سجدہ سواۓ ایک پرانی رسم کے اور کچھ نہیں۔

عیدِ آزاداں شکوہِ ملک و دین
عیدِ محکوماں ھجومِ مومنین

آزادوں کی عید سلطنت و دین کے شان و شوکت کا اظہار ہے
جب کہ محکوموں (غلاموں) کی عید صرف مومنوں کا ہجوم ہے

پس چہ باید کرد

05/11/2022

سیاسیات حاضرہ
(دورِ حاضر کا سیاست)

می کند بندِ غلاماں سخت تر
حریّت می خواند او را بے بصر

دور حاضر کا سیاست محکوموں کی زنجیروں کو زیادہ مظبوط بناتا ہے ۔
کم نظر اسے غلاموں کی آزادی سمجھتا ہے

گرمئ ہنگامۂ جمہور دید
پردہ بر روے ملوکیت کشید

جب اس نے عوام کی (تحریک آزادی) کے ہنگامے کی گرمی دیکھی
تو بادشاہت کے چہرے پر پردہ ڈال دیا۔
(جمہوریت کا ڈھونگ رچایا)

سلطنت را جامعِ اقوام گفت
کارِ خود را پختہ کرد و خام گفت

( کہنے لگا ) کہ سلطنت تو مختلف اقوام کو اکٹھا کر دیتی ہے
بات اگرچہ اس نے کچی کہی، لیکن اپنے مطلب کا پکّا رہا۔

در فضایش بال و پَر نتواں گشود
با کلیدش ہیچ در نتواں گشود

ایسی سیاست کی فضا میں غلاموں کے لیے بال و پر کھولنا ممکن نہیں
اس کی چابی سے کوئی دروازہ نہیں کھولا جا سکتا۔

گفت با مرغِ قفس اے دردمند
آشیاں در خانۂ صیاد بند

(یہ سیاست) مرغ قفس سے کہتا ہے کہ اے دردمند
تو شکاری کے گھر کے اندر آشیانہ بنا لے۔

ہر کہ سازد آشیاں در دشت و مَرغ
او نباشد ایمن از شاہین و چرغ

جو کوئی صحرا و مرغزار میں آشیانہ بناتا ہے
وہ شاہین اور شکرے سے محفوظ نہیں رہتا۔

از فسونش مرغِ زیرک دانہ مست
نالہ ہا اندر گلوے خود شکست

اس کے جادو سے سمجھدار پرندہ جو دانے پر فریفتہ ہے، اپنے نالہ و فریاد کو بلند نہں کرتا۔

حریت خواہی بہ پیچاکش میَفت
تشنہ میر و بر نمِ تاکش میَفت

اگر تو آزادی چاہتا ہے تو ایسے سیاست کے فریب میں نہ آ
پیاسا مر جا لیکن اس کے انگور کے رس کا طالب نہ ہو۔

الحذر از گرمئ گفتارِ او
الحذر از حرفِ پہلو دار او

ایسے سیاست کی گرمئ گفتار اور حرف پہلودار (ذو معنی الفاظ) سے اللہ تعالے بچائے۔

چشم ہا از سرمہ اش بے نور تر
بندۂ مجبور ازو مجبور تر

اس (سیاست) کا سرمہ آنکھوں کو اور زیادہ بے نور کر دیتا ہے
اور اس کی سیاست مجبور انسان کو اور مجبور بنا دیتی ہے۔

از شرابِ ساتگینش الحذر
از قمارِ بدنشینش الحذر

اس کے جام کی شراب اور اس کی بدنیتی پر مبنی کھیل سے اللہ تعالیٰ بچائے۔

از خودی غافل نگردَد مردِ حُر
حفظِ خود کن حُبِ افیونش مخور

مرد آزاد اپنی خودی سے غافل نہیں ہوتا
تو اپنی حفاظت کے لیے ایسے سیاست کی افیون کی گولی نہ کھا۔

پیشِ فرعوناں بگو حرفِ کلیم
تا کند ضربِ تو دریا را دونیم

فرعونوں کے سامنے حضرت موسی علیہ السلام کی طرح بیباکانہ بات کر
تاکہ تیری ضرب سمندر کو دو ثکڑے کر دے۔

پس چہ باید کرد

04/11/2022

آدمیت زار نالید از فرنگ
زندگی ہنگامہ برچید از فرنگ

نوعِ انسان مغرب کے ہاتھوں بڑی ہی نالاں ہے
زندگی نے اہلِ مغرب سے کہیں ہنگامے پائے ہیں

پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق
باز روشن می شوَد ایامِ شرق

تو اے اقوام شرق اب کیا کرنا چاہئیے؟
تا کہ مشرق کے ایّام پھر سے روشن ہو جائیں۔

در ضمیرش انقلاب آمد پدید
شب گذشت و آفتاب آمد پدید

مشرق کے ضمیر میں انقلاب رونما ہوچکا ہے
رات گزر گئی ہے اور سورج طلوع ہوچکا ہے

یورپ از شمشیرِ خود بسمل فتاد
زیر گردوں رسمِ لادینی نہاد

مغرب اپنی تلوار سے خود ہی زخمی ہو چکا ہے اس نے دنیا میں لادینی کی رسم کی بنیاد رکھ دی ہے۔

گُرگے اندر پوستینِ برہ ئی
ہر زماں اندر کمینِ برہ ئی

اس کی حالت اس بھیڑئیے کی سی ہے جس نے میمنے کی کھال پہن رکھی ہے
وہ ہر وقت ایک اور میمنے کی تلاش میں ہے۔

مشکلاتِ حضرتِ انساں ازوست
آدمیت را غمِ پنہاں ازوست

انسانیت کی ساری مشکلات اس کی وجہ سے ہیں اسی کی وجہ سے انسانیت غم پنہاں میں مبتلا ہے۔

در نگاہش آدمی آب و گِل است
کاروانِ زندگی بے منزل است

اس کی نگاہ میں آدمی محض پانی اور مٹی کا مجموعہ ہے
اور زندگی کا قافلہ یونہی بے مقصد رواں ہے۔

ہر چہ می بینی ز انوارِ حق است
حکمتِ اشیا ز اسرارِ حق است

جو کچھ تو دیکھتا وہ حق تعالیٰ کے انوار سے ہے (ان کی صفات کا مظہر ہے) ۔
اشیاۓ کائنات کی ماہیت جاننا گویا اسرار حق سے آگاہی حاصل کرنا ہے۔

ہر کہ آیاتِ خدا بیند، حُر است
اصلِ ایں حکمت ز حکمِ "انظر" است

جو بھی حق تعالیٰ کی آیات دیکھتا ہے وہ مرد آزاد ہے
اس حکمت کی حقیقت "انظر" کے حکم پر مبنی ہے۔

"انظر" قرآنی تلمیح ہے، مطلب یہ کہ انسان کو چاہئے کہ وہ نظام فطرت کا بغور مطالعہ کرے

بندۂ مومن ازو بہروز تر
ھم بہ حالِ دیگراں دلسوز تر

مومن نے اس حکمت سے وافر حصّہ پایا ہے
مگر وہ اس کے ساتھ دوسرے انسانوں کے لیے اور زیادہ ہمدرد ہو جاتا ہے۔

علم چوں روشن کند آب و گِلش
از خدا ترسندہ تر گردَد دلِش

جب یہ علم و فن اس کی عقل کو روشن کرتا ہے
تو اس قلب میں اور زیادہ خوف خدا جا گزیں ہو جاتا ہے۔

علمِ اشیا خاکِ ما را کیمیاست
آہ در افرنگ تاثیرش جداست

اشیائے کائنات کا علم ہماری خاک کے لئے کیمیا ہے
مگر افسوس کہ اہل مغرب پر اس کی تاثیر مختلف انداز میں ظاہر ہوتی ہے۔

عقل و فکرش بے عیار خوب و زشت
چشمِ او بی نم، دلِ او سنگ و خشت

اس کے عقل و فکر نے اچھی اور بری کا امتیاز چھوڑ دیا۔
اس کی آنکھ بے نم ہو گئی اور دل پتھر کی طرح سخت ہو گیا۔

علم ازو رسواست اندر شہر و دشت
جبرئیل از صحبتش ابلیس گشت

اس کی وجہ سے علم و فن آبادی اور بیابان میں رسوا ہو گیا ہے۔
اس کی صحبت میں رہ کر ملکوتی علوم ابلیسی بن چکے ہیں۔

دانشِ افرنگیاں تیغے بدوش
در ہلاکِ نوعِ انسان سخت کوش

اہل مغرب کی دانش کندھے پر تلوار رکھے نوع انسان کی ہلاکت کے در پے ہے۔

با خساں اندر جہانِ خیر و شر
در نسازَد مستئ علم و ہنر

یہ دنیا جو خیر و شر کا میدان جنگ ہے
اسکے اندر علم و حکمت کی مستی کمینوں کے لیے سازگار نہیں ۔

آہ از افرنگ و از آئینِ او
آہ از اندیشۂ لا دینِ او

افسوس ہے مغرب پر اور اس کے آئین پر
افسوس ہے اس کے لادین فکر پر

علمِ حق را ساحری آموختند
ساحری نے کافری آموختند

انہوں نے حق و صداقت کے علم کو جادو گری سکھادی ہے
جادو گری نہیں بلکہ کافری سکھا دی ہے۔

ہر طرف صد فتنہ می آرد نفیر
تیغ را از پنجۂ رہزن بگیر

اس نے ہر طرف سینکڑوں فتنے برپا کر دیئے ہیں۔ اس رہزن کے ہاتھ سے تلوار چھین لینی چاہئیے۔

اے کہ جاں را باز می دانی ز تن
سحر ایں تہذیبِ لا دینی شکن

اے مسلمان تو جو روح کو بدن سے الگ سمجھتا ہے
اٹھ اور اس لادین تہذیب کے جادو کو توڑ دے۔

روحِ شرق اندر تنش باید دمید
تا بگردَد قفلِ معنی را کلید

مغرب کے بدن میں مشرق کی روح پھونکنی چاہئیے
تا کہ قفل معانی (حقیقت) کے لیے چابی ثابت ہو۔

عقل اندر حکمِ دل یزدانی است
چوں ز دل آزاد شُد شیطانی است

عقل اگر دل کے حکم کے اندر رہے تو وہ خدائی قوّت ہے
اگر دل سے آزاد ہو جائے تو شیطانی قوّت بن جاتی ہے۔

پس چہ باید کرد

16/09/2022

مرا براہِ طلب بار در گل است ہنوز
کہ دل بہ قافلہ و رخت و منزل است ہنوز

راہ طلب میں ابھی تک میں علائق دنیا میں گرفتار ہوں
ابھی تک میرا دل قافلہ ، سامان اور منزل کے چکر میں ہے۔

کجا ست برق نگاہے کہ خانماں سوزد
مرا با معاملہ با کشت و حاصل است ہنوز

کہاں ہے وہ بجلی جیسی نگاہ جو میرا گھر بار جلا دے
ابھی تک میں کھیتی اور اس کی پیداوار کی فکر میں گرفتار ہوں۔

یکے سفینۂ ایں خام را بہ طوفان دہ
ز ترسِ موج نگاہم بساحل است ہنوز

مجھ خام کی کشتی کو ذرا طوفان میں ڈال دیجئیے
کہ موجوں کے ڈر سے میں ابھی ساحل کی جانب دیکھ رہا ہوں۔

تپیدن و نہ رسیدن چہ عالمے دارد
خوشا کسے کہ بہ دنبال محمل است ہنوز

تڑپنا اور مقصود تک نہ پہنچنا ، کیا لطف رکھتا ہے!
خوش نصیب ہے وہ شخص جو ابھی محمل کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔

کسے کہ از دو جہاں خویش را بروں نشناخت
فریب خوردۂ ایں نقشِ باطل است ہنوز

جس شخص نے اپنے آپ کو دونوں جہانوں سے الگ نہیں پہچانا
وہ ابھی تک اس نقش باطل (دنیا) کا فریب خودرہ ہے۔

نگاہِ شوق تسلی بہ جلوۂ نہ شود
کجا برم خلشے را کہ در دل است ہنوز

ایک جلوے سے میری نگاہ شوق کی تسلی نہیں ہوئی
اس خلش کا کیا علاج جو ابھی تک میرے دل میں موجود ہے۔

حضورِ یار حکایت دراز تر گردید
چنانکہ ایں ہمہ نا گفتہ در دل است ہنوز

محبوب کے حضور بات بہت لمبی ہو گئی ہے لیکن اس کے باوجود بہت سی ان کہی باتیں دل میں رہ گئیں ہیں۔

زبورِ عجم

31/07/2022

تو شمشیرے ز کامِ خود بروں آ
بروں آ، از نیامِ خود بروں آ

تو تلوار ہے اپنی نیام سے باہر آ، باہر آ، اپنی نیام سے باہر آ۔

نقاب از ممکناتِ خویش برگیر
مہ و خورشید و انجم را برگیر

اپنی ممکنات سے پردہ ہٹا، چاند سورج، اور ستاروں کو مسخر کر۔

شبِ خود روشن از نورِ یقیں کن
یدِ بیضا بروں از آستیں کن

اپنی ذات کو نور یقین سے روشن کر، اپنی آستین سے ید بیضا (روشن ہاتھ) باہر نکال۔

کسے کو دیدہ را بر دل گشود است
شرارے کِشت و پروینے درود است

جس نے اپنی نگاہ دل پر رکھی، اس نے شرر بویا اور پروین (ستارہ) حاصل کیا۔

شرارے جستۂ گیر از درونم
کہ من مانندِ رومی گرم خونم

میرے اندر سے اٹھتے ہوئے شرارے کو لے لے میں رومی رح کی مانند گرم خون ہوں
(میرے اندر شرارے نکل رہے ہیں۔)

وگرنہ آتش از تہذیبِ نو گیر
برونِ خود بیفروز، اندروں مِیر

اگر مجھ سے کچھ نہیں لیتا تو پھر نئی تہذیب کی آگ لے لے
اور اس سے اپنا ظاہر چمکا اور اندر سے مر جا۔

زبورِ عجم

28/07/2022

قلب را از صبغة اللہ رنگ دہ
عشق را ناموس و نام و ننگ دہ

اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگ دے
اور اس طرح اپنے عشق کو ننگ و ناموس و پہچان عطا کر

طبعِ مسلم از محبت قاہر است
مسلم ار عاشق نباشد کافر است

مسلمان کی فطرت میں عشق الہی سے قاہری پیدا ہوتی ہے،
اگر مسلمان عاشق نہیں تو وہ کافر ہے
(اور وہ ایمان والے ان کی محبت اللہ تعالیٰ کے لیے بہت شدید ہے - قرآن)

تابعِ حق دیدنش نا دیدنش
خوردنش، نوشیدنش، خوابیدنش

اس کا دیکھنا نہ دیکھنا ، کھانا پینا ، سونا سب اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ہوتا ہے۔

در رضایش مرضئ حق گم شوَد
"ایں سخن کے باورِ مردم شوَد"

پھر اللہ تعالیٰ کی رضا اس کی رضا میں گم ہو جاتی ہے
لیکن عام لوگ اس بات کو کیسے باور کریں گے

خیمہ در میدانِ الا اللہ زدست
در جہاں شاہد علی الناس آمدست

وہ الا اللہ (توحید) کے میدان میں خیمہ زن ہے
اور وہ دنیا میں لوگوں پر شاہد (حق) ہے۔

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَٰكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا۟ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا

ترجمہ:- ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواه ہوجاؤ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم پر گواه ہوجائیں

شاہدِ حالش نبئ انس و جاں
شاہدے صادق ترینِ شاہداں

اور اس کے حال کے شاہد جناب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
جو سب شاہدوں سے صادق ترین ہیں

قال را بگذار و بابِ حال زن
نورِ حق بر ظلمتِ اعمال زن

بحث و مباحثہ کو چھوڑ اور حال (روحانی کیفیت ) کا دروازہ کھٹکھٹا
اور اس طرح اعمال کی تاریکی پر اللہ تعالیٰ کا نور بکھیر دے

اسرارِ خودی

19/07/2022

سوز و گدازِ زندگی لذتِ جستجوے تو
راہ چو مار می گزد گر نہ روم بسوے تو

آپ کی جستجو میں جو لذت ملتی ہے وہی سوز و گداز زندگی ہے
اگر میں آپ کی طرف سفر نہ کروں تو راستہ مجھے سانپ کی طرح ڈستا ہے

سینہ گشادہ جبرئیل از برِ عاشقاں گذشت
تا شررے بہ او فتد ز آتش آرزوے تو

جبریل امین علیہ السلام اپنا سینہ کھولے ہوئے عاشقوں کے پاس سے گذرتے ہیں
تاکہ انہیں بھی آپ کی محبت کی چنگاری میّسر آ جائے۔

ہم بہ ہواے جلوہ ئی پارہ کنم حجاب را
ہم بہ نگاہِ نارسا پردہ کشم بہ روے تو

کبھی تو میں آپ کے جلوہ کے شوق میں سارے حجاب پارہ پارہ کر دیتا ہوں
اور کبھی خود ہی اپنی نگاہ نا رسا سے آپ کے چہرے پر پردہ کھینچ لیتا ہوں۔

من بتلاش تو روَم یا بہ تلاش خود روَم
عقل و دل نظر ہمہ گم شدگانِ کوے تو

میں آپ کی تلاش میں نکلوں یا اپنی تلاش میں
عقل ، دل اور نظر سب آپ کی گلی میں گم ہو چکے ہیں۔

از چمن تو رستہ ام قطرۂ شبنمے ببخش
خاطرِ غنچہ وا شوَد کم نہ شود ز جوے تو

میں آپ ہی کے چمن کا پودا ہوں، مجھے قطرۂ شبنم عطا فرمائیے
اس سے میرے غنچے کا دل کھل جائے گا اور آپ کی ندی میں کچھ کمی واقع نہیں ہو گی۔

زبورِ عجم

Address

North Nazimabad

74700

Telephone

+923102581386

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Iqbalistan Movement posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Iqbalistan Movement:

  • Want your business to be the top-listed Event/venue?

Share