30/11/2024
اے ز خود پوشیدہ خود را بازیاب
در مسلمانی حرام است ایں حجاب
تو اپنے آپ سے پوشیدہ ہے، اپنے آپ کو دوبارہ پا لے
مسلمانی میں ایسا پردہ حرام ہے۔
رمزِ دینِ مصطفیٰ دانی کہ چیست
فاش دیدن خویش را شاہنشی است
کیا تو جانتا ہے کہ دینِ مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا راز کیا ہے؟
یہ کہ اپنے آپ کو برملا دیکھنا بادشاہی ہے
چیست دین ؟ دریافتن اسرارِ خویش
زندگی مرگ است بے دیدارِ خویش
دین کیا ہے؟ اپنی شخصیت کے اسرار دریافت کرنا
اپنے دیدار کے بغیر زندگی موت ہے۔
آں مسلمانے کہ بیند خویش را
از جہانے برگزیند خویش را
وہ مسلمان جو اپنے آپ کو دیکھ لیتا ہے
وہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ سارے جہان سے برتر ہے۔
از ضمیرِ کائنات آگاہ اوست
تیغِ لا موجود "الا ﷲ" اوست
ایسا مسلمان ہی ضمیر کائنات سے آگاہ ہوتا ہے وہی لاموجود "الااللہ" کی تلوار بنتا ہے
در مکان و لامکاں غوغاے او
نہ سپہر آوارہ در پہناے او
مکان اور لا مکان میں اسی کا غوغا ہے
سارے آسمان (پوری کائنات) اسی کی وسعت میں پھرتے ہیں۔
تا دلش سرّے ز اسرارِ خداست
حیف اگر از خویشتن ناآشناست
چونکہ مسلمان کا قلب اللہ تعالیٰ کے رازوں میں سے ایک راز ہے
اس لیے ایسے مسلمان پر افسوس ہے جو اپنے سے بے خبر ہے۔
بندۂ حق وارثِ پیغمبراں
او نگنجد در جہانِ دیگراں
اللہ تعالیٰ کا بندہ پیغمبروں کا وارث ہے
وہ دوسروں کے جہان میں نہیں سماتا
(وہ اپنا جہان خود پیدا کرتا ہے)
تا جہانے دیگرے پیدا کند
ایں جہانِ کہنہ را برہم زند
چونکہ وہ نیا جہان پیدا کرتا ہے اس لیے پہلے اس پرانے جہان کو درہم برہم کر دیتا ہے۔
زندہ مرد از غیرِ حق دارد فراغ
از خودی اندر وجودِ او چراغ
زندہ انسان غیر اللہ سے فراغت حاصل کر چکا ہے
اس کے وجود کے اندر خودی کا چراغ روشن ہوتا ہے۔
پاے او محکم بہ رزمِ خیر و شر
ذکرِ او شمشیر و فکرِ او سپر
خیر و شر کی جنگ میں وہ ثابت قدم رہتا ہے
ذکر اس کی تلوار ہے اور فکر اس کا ڈھال ہے
پس چہ باید کرد