01/06/2026
خلافت اور ملوکیت:شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
حاصل کرنے کے لیے رابطہ کرے ہمارے وآٹساپ نمبر پر
070060 03123
ڈلیوری سارے ہندوستان کے لئے مفت میں ہوجائے گی
"الخلافة والملك" (خلافت اور ملوکیت) دراصل شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی ایک اہم علمی بحث ہے۔ یہ کوئی الگ سے لکھی گئی مستقل کتاب نہیں ہے، بلکہ ان کے عظیم علمی مجموعے "مجموع الفتاویٰ" (خصوصاً جلد نمبر 35) کا ایک حصہ ہے جو "باب الخلافۃ والملک و قتال اھل البغی" کے عنوان سے موجود ہے۔اس موضوع پر ابن تیمیہ کے افکار و نظریات کو چند نمایاں نکات کی صورت میں باآسانی سمجھا جا سکتا ہے:
1. خلافتِ راشدہ کا مثالی تصورابن تیمیہ اس بات پر متفق ہیں کہ خلافتِ راشدہ (حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، اور حضرت علیؓ کا دور) اسلام کا سب سے مثالی، کامل اور شرعی نظامِ حکومت تھا۔ یہ دور عدل، انصاف، کتاب و سنت کی مکمل پیروی اور عوامی مشاورت (شوریٰ) پر مبنی تھا۔
2. خلافت سے ملوکیت میں تبدیلیخلافتِ راشدہ کے بعد، امت میں سیاسی نظام خلافت سے ملوکیت (بادشاہت) میں تبدیل ہو گیا۔ اس تبدیلی کی پیشین گوئی احادیث میں بھی موجود ہے (کہ خلافت تیس سال ہو گی، پھر بادشاہت آئے گی)۔ ابن تیمیہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ملوکیت میں خاندانی وراثت اور ذاتی اقتدار جیسے عناصر شامل ہو گئے جو خالص خلافت کے اصولوں سے ہٹ کر تھے۔
3. ملوکیت کی شرعی حیثیتابن تیمیہ ملوکیت کو کفر یا مکمل ناجائز قرار نہیں دیتے، بلکہ اس کی دو اقسام بیان کرتے ہیں:عادل بادشاہ (الملک العادل): اگرچہ یہ خلافتِ راشدہ کی سطح کا نہیں ہوتا، لیکن اگر بادشاہ شریعت کی حدود کو نافذ کرتا ہے، عدل قائم کرتا ہے اور رعایا کے ساتھ بھلائی کرتا ہے، تو وہ بھی اسلام میں قابلِ قبول اور لائقِ تحسین ہے۔ظالم بادشاہ (الملک الظالم): ایسا حکمران جو ظلم و ستم کرے اور شریعت کی پرواہ نہ کرے۔
4. حکمرانوں کی اطاعت اور بغاوت کا اصولابن تیمیہ کے نزدیک ریاست میں نظم و ضبط اور امن کا قیام انتہائی اہم ہے۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ:اگر حکمران ظالم بھی ہو، لیکن اس کی اطاعت سے فتنہ و فساد ختم ہوتا ہو اور مسلمانوں کا اتحاد برقرار رہتا ہو، تو اس کی اطاعت کی جائے گی تاکہ بدترین خونریزی سے بچا جا سکے۔وہ بغاوت یا مسلح انقلاب کے سخت خلاف ہیں جس سے مسلمانوں میں خانہ جنگی (خونریزی) کا خطرہ ہو، کیونکہ ان کے نزدیک بدترین امن بھی بدترین فساد سے بہتر ہے۔ البتہ، اگر کوئی حکمران اعلانیہ کفر کا مرتکب ہو تو اس کے خلاف شرعی بنیادوں پر لائحہ عمل مختلف ہوتا ہے۔
5. دین اور سیاست کا امتزاجامام ابن تیمیہ کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ دین اور سیاست الگ الگ نہیں ہیں۔ وہ ایک مضبوط ریاست اور قیادت کو امتِ مسلمہ کی بقا، جہاد کے نفاذ اور حدود کے قیام کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں، خواہ وہ نظامِ حکومت خلافت ہو یا عادل ملوکیت۔